تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 168 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 168

150 پیدا ہو چکا تھا کیونکہ وہ لوگ تو مسیح کا نائب پوپ کے سوا اور کسی کو نہیں سمجھتے تھے۔ان کو یہ کہاں معلوم تھا کہ اور مسیح بھی مسلمانوں میں پیدا ہوا ہے جس کا نائب ہمارے ملک میں آئے گا۔اس لئے پہلے تو میرے وہاں جانے نے اُن کے اندر ایک بہت بڑا ہیجان پیدا کر دیا تھا۔چنانچہ اسی وجہ سے اس کثرت سے انہوں نے ہمارے فوٹو لئے کہ ہم تھک جاتے تھے۔پھر بڑی بڑی اخباروں کے نمائندے ملنے کے لئے آتے تھے اور ہمارے متعلق متواتر اخباروں میں اس کثرت کے ساتھ ذکر ہوتا رہا کہ ایک نمائندے نے ہمارے ایک دوست کو کہا کہ آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آپ کو یہاں کس قدر عزت ملی ہے آپ کے خلیفہ کی آمد پر اس کے متعلق اخباروں میں چھ چھ سات سات دفعہ حالات شائع ہوئے ہیں۔حالانکہ یہاں بڑے سے بڑے بادشاہ کا بھی سوائے ایک دو دفعہ کے اخباروں میں ذکر نہیں ہوتا۔تو ایک میرا وہاں جانا خود ایک ایسی تحریک تھی۔جس سے ان کے طبائع میں ایک جوش پیدا ہو چکا تھا۔پھر امیر فیصل والا معاملہ درمیان میں آ گیا۔جس سے سلسلہ کی شہرت ہوئی۔اور پھر باوجود اس کے رُک جانے کے ایسے شاندار افتتاح کا ہونا جس سے نہ صرف انگلستان میں بلکہ تمام دنیا میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔اس لئے اور بھی ان لوگوں ہے۔کے دلوں میں ایک غیر معمولی رغبت ( دینِ حق ) کی طرف پیدا کر دی غرض تھوڑے سے روپیہ کے خرچ کرنے سے اتنی عظیم الشان لہر کا پیدا ہو جانا ایک ایسی بات ہے کہ اب اگر ہماری غفلت سے یہ تحریک ٹھنڈی پڑ جائے۔اور اس کے مفید نتائج نہ نکلیں۔تو پھر شاید کروڑوں روپیہ بھی خرچ کرنے سے اس قسم کی تحریک نہ پیدا ہو سکے۔جب تک میلان نہ ہو تب تک اشتہار دینا بھی کچھ کام نہیں دیتا۔اس لئے ان حالات کے ہوتے ہوئے اب ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہماری