تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 156 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 156

138 برٹن (Sir Harry Burton) ایم پی اور مسٹر پی جے ہین (۔J۔Hennin) ایم پی بھی شامل تھے۔اسلام کی تبلیغی اسکیم۔آنریبل (Honourable) شیخ نے اپنے ایڈریس کے دوران میں کہا کہ وہ ظاہری رسومات کے مؤید نہیں لیکن چونکہ ظاہری رسومات سے اشاعت و شہرت ہوتی ہے لہذا ہم ان کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔مسجد چونکہ اسلامی تحریک کا آغاز ہے اس لئے اگر اس کی شہرت نہ ہوئی تو یہ محض گمنامی میں رہے گی۔یہ شہرت افتتاحی رسومات کی اشاعت سے حاصل ہو گی۔میں احمدیہ فرقہ کا ممبر نہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اسلام کے بعض بڑے اور پرانے فرقے اس فرقہ کو پسند نہیں کرتے ہیں اور امیر کی ممانعت کی بھی یہی وجہ ہے۔اس مسجد کے کام کو فرقہ وارانہ نظر سے نہیں جانچنا چاہئے۔اسلام کو مغربی قوموں کے سامنے اصلی معنوں میں پیش کرنے کے کام کے سامنے فرقہ بندی بیچ ہے۔اسی رائے کو لے کر میں اس مجمع میں شامل ہوا ہوں۔(19) ساؤتھ ویلز نیوز (South Wales News) مورخہ 4/اکتوبر 1926ء) لنڈن نے کل ایک ایسے نظارہ کو دیکھا۔جسے اس نے اپنی طویل تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ساؤتھ فیلڈ واقع لنڈن میں مسلمانوں کی پہلی بیت رحیم خدا کے نام کے ساتھ کھولی گئی۔مسجد کے افتتاح سے پہلے امام بیت نے احمدیہ فرقہ کے امام کی طرف سے ایک پیغام سنایا جس میں ہر ہولی نس (His Holyness) نے یہ فرمایا کہ مسجد کا وجود اس عظیم الشان نیکی کا معاوضہ ہے۔جو مغرب نے ہماری گہری نیند کے زمانہ میں ہمارے لئے علوم کی مشعل کو روشن کرنے سے کی ہے۔انہوں نے عیسائیوں سے یہ اپیل کی ہے کہ