تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 142 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 142

124 علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کی آمد کی خبر انجیل اور اسلامی کتب میں ہے۔نیز اس نے موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کی آمد کی خبر ہر ایک نبی نے دی ہے۔موجودہ خلیفہ 1908ء میں بانی سلسلہ کی وفات پر منتخب ہوئے اور 38 برس کے ہیں۔یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سلسلہ جس کے پیرو تمام روئے زمین پر دس لاکھ نفوس ہیں ( دینِ حق) سے ایسا ہی وابستہ ہے جیسا کہ عیسائیت یہودیت سے۔مسجد نہایت سادی اور انڈوسیرسینک (Indo Saracenic) وضع کی ہے دو سو (200) نمازیوں کے نماز پڑھنے کی اس میں گنجائش ہے۔اس میں ایک گنبد اور چار مینارے ہیں۔مینارے اسلامی ممالک کے طرز پر استعمال کئے جائیں گے۔پانچ دفعہ دن میں مؤذن مینارہ پر چڑھ کر پکارے گا کہ خدا سب سے بڑا ہے میں شہادت دیتا ہوں کہ خدا اکیلا عبادت کے قابل ہے۔نماز کے لئے آؤ صبح کی آذان میں یہ بھی پکارا جائے گا کہ نماز نیند سے اچھی ہے۔دروازہ پر کلمہ لکھا ہوا ہے خدا ایک ہے محمد اُس کا رسول ہے۔اُس کے نیچے فارسی کتبہ ہے جو کہ بانی سلسلہ پر بذریعہ الہام اُترا تھا۔وہ یہ ہے ”اس عمارت میں امن ہے، یہ خدا کی محبت کے رہنے کی جگہ ہے۔مسجد کا رُخ مکہ کی طرف ہے۔دروازہ کے قریب جوتے اتارنے کی جگہ ہے اور فوارہ پر وضو کرنے کی۔عمارت کا کام میسرز تھامس ماسن اینڈ سنز کے ہاتھ میں ہے اور معمار مسٹر آلی فینٹ ہیں۔66 جب حضرت خلیفہ مسیح اس ملک میں آئے تھے تو انہوں نے احمدنیہ مشن کا کام مسٹر اے۔آر۔درد صاحب کے سپرد کیا جو اس سے پہلے ان کے پرائیوٹ سیکریٹری تھے اور اب مسجد کے امام ہیں۔مسجد کے پاس ایک گھر ہے جو 1 نقل بمطابق اصل