تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 125 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 125

112 مشہور کر دے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔سلطان نے پہلے اس خدمت کے لئے اپنی رضامندی ظاہر کی۔مگر سلسلہ کے دُشمنوں نے مگر کیا اور اسے روک دیا۔تا کہ بیت کی شہرت عالمگیر نہ ہو جائے۔مگر خدا نے ان کے اس مکر کو ہی زیادہ شہرت کا موجب بنا دیا۔اور ان کی تمام آرزؤں پر پانی پھیر دیا۔ومہ پر پانی پھیر دیا۔ومـــــــــــــروا ومكر الله والله خیر الما کریں۔ادھر تو آپ نے یہ ملاحظہ کیا۔کہ امیر فیصل نے معاہدہ کی پابندی نہ کی۔اور آخر وقت تک اصل بات کا پتہ نہ دیا۔امام اور اس کے رفقاء کو سخت تشویش میں ڈالے رکھا پھر عین وقت پر جواب دے دیا۔ادھر یہ ملاحظہ ہو۔کہ جب اس کی لنڈن سے روانگی کا وقت آیا تو امام کو حضرت خلیفہ اسیح ثانی کی طرف سے اس مضمون کا تار ملا۔کہ باوجود وقت پر انکار کر جانے کے چونکہ ابن سعود نے امیر فیصل کو صرف بیت کے افتتاح کی خاطر اتنا دُور دراز کا سفر کرایا۔اور شہزادہ نے اس سفر کی تکلیف اُٹھائی۔ہم کو چاہئے کہ اُن کا شکریہ ادا کریں۔اور اس طرح گرم جوشی سے شہزادہ کو لنڈن سے رخصت کریں جس طرح اُس کا استقبال کیا گیا تھا۔اخبارات اور رائیں: اس تقریب سعید کے متعلق جو کچھ انگلستان اور دُنیا کے اخبارات نے لکھا اس کا نمونہ مشتے از خروارے درج کرنا شائقین کی واقفیت کے لئے اشد ضروری ہے۔جو کچھ وہاں کے اخبارات نے لکھا ہے۔وہ تو اتنا ہے۔کہ انگلستان میں کوئی فرد بھی اب باقی نہیں رہا۔جو اخبار پڑھنے کا عادی ہو اور اس کولنڈن کی (بیت) کا علم نہ ہو۔کوئی اخبار نہ لنڈن کا نہ بیرونجات کا ایسا ہے۔جس میں دو دو تین تین بار (بیت) کے متعلق نہ لکھا ہو۔اور کوئی اخبار ایسا نہیں