تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 118 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 118

105 چھپوایا تھا۔سب کا سب تقسیم ہو گیا۔مگر معلوم ہوا کہ پھر بھی کثرت سے لوگوں کو نہیں ملا۔بعض لوگوں نے پوچھا کہ نمازیں کس کس وقت پر ہوا کریں گی۔اور کیا ہم آ سکتے ہیں یا نہیں کئی نے جمعہ کے روز اور اتوار کے روز آنے کا وعدہ کیا۔ایک آدمی نے کہا کہ آپ کے خیالات ایسے اچھے ہیں کہ میں اپنے آپ کو آپ کی جماعت میں ہی سمجھتا ہوں بیت میں پہلی نماز تقریباً ایک سو آدمیوں نے پڑھی۔ایک ہمسایہ نمازیوں کو دیکھ کر مارے جوش کے رہ نہ سکا۔اور بُوٹ اتار کر صفوں میں جا داخل ہوا۔اس نے بعد میں بتایا کہ میں ایک صف میں کھڑا تھا اور آنکھیں بند کر کے دُعا کر رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد جب آنکھ کھولی تو کیا دیکھتا ہوں کہ اکیلا کھڑا ہوں باقی سجدے میں تھے۔کہنے لگا میں شرمندہ سا ہو گیا۔مگر خیر دُعا تو ہو گئی بہت خوش تھا۔شیخ عبدالقادر صاحب نے جس وقت اپنی تقریر میں کہا۔کہ وہ باوجود احمدی نہ ہونے کے اس بات کو فخر سمجھتے ہیں کہ اس موقعہ پر شامل ہوئے۔تو لوگ بہت خوش ہوئے۔اور خوب چیرز دیئے۔اسی طرح جب مہاراجہ صاحب بردوان نے کہا کہ اس کا فرض تھا کہ وہ آتا۔تو اس وقت بھی خوب چیرز دیئے گئے۔غیرت مند ہندی اور مصری مسلمان امیر فیصل کو بہت بُرا بھلا کہتے تھے۔اور بعض نے کہا کہ تماشے دیکھنے ٹھہرتا ہے اور بیت میں نہیں آ سکتا۔کئی لوگوں نے کہا کہ 25 سال پہلے اس ملک میں ایسا اجتماع ہونا ناممکنات سے تھا۔لوگ یہ بھی کہتے تھے۔کہ اچھا ہوا امیر فیصل نہ آیا۔اگر وہ آتا۔تو لوگوں کی توجہ صرف اس کی طرف ہوتی۔مگر اب صرف بیت اور سلسلہ کی طرف ہے۔خان بہادر شیخ عبدالقادر صاحب نے بہت جرات سے کام کیا۔وہ