تواریخ مسجد فضل لندن — Page 117
104 افتتاح کے بعد: رات ہو گئی۔لوگ اپنے گھروں میں چلے گئے۔بلکہ بستروں میں لیٹ گئے۔مگر دن کا نظارہ ابھی تک ان کی آنکھوں کے سامنے پھر رہا ہے۔اور دن کی باتیں ان کے کانوں میں اب بھی سنائی دے رہی ہیں۔یہی وہ ضروری اثر اور خیالات ہیں۔جن سے ناظرین کو بھی واقف ہونا ضروری ہے۔چنانچہ چند ایسی باتوں کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔بیت کے ہمسایہ میں ایک شخص رہتا ہے۔وہ کہنے لگا کہ ان لوگوں نے کروڑوں روپیہ کی پلیٹی (اشاعت) کر لی ہے۔بیت کے متعلق نوٹ لکھنے تو الگ بعض اخبارات نے اس کے متعلق خاص پوسٹر شائع کئے۔بیت کے انجینئر نے فون کیا۔کہ افتتاح کی تقریب نے مجھ پر گہرا اثر کیا۔اور جو خیالات میں نے سنے۔میں اُن سے بہت متاثر ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح کا پیغام بہت پسند کیا گیا۔جب پہلی آذان ہوئی۔تو چاروں طرف ایک سناٹا چھا گیا۔جس شوق جوش اور رونق کا اس تقریب پر اظہار ہوا ہے۔ویسا کبھی اس سر زمین میں کسی مذہبی جلسہ پر دیکھنے میں نہیں آیا۔اور اس لحاظ سے کہ معزز ترین احباب اور ہر شعبہ زندگی کے برگزیدہ اصحاب موجود تھے۔ایسی کامیابی (دینی) تقریب انگلستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔مبصرین نے کہا۔کہ آج کی تقریب نے ( دینِ حق ) کا جھنڈا با قاعدہ طور پر انگلستان کے دارالسلطنت میں قائم کر لیا ہے۔مہاراجہ صاحب بردوان ہندوستان کی غیر مسلم اقوام کے نمائندہ کے طور پر شامل ہوئے تھے کسی نے ریمارک کیا۔کہ امیر فیصل کے نہ آنے نے اس تقریب کو بہت زیادہ مشہور کر دیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح کا پیغام طبع کر کر تقسیم کیا گیا۔ایک ہزار کی تعداد میں