تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 112 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 112

99 اکبر کی آواز آئی۔اس موقعہ پر اس آذان کا فخر ملک غلام فرید صاحب کے حصّہ میں آیا۔جو لنڈن کی سب سے پہلی بیت کے مینارہ سے سب سے پہلی مرتبہ فضاء میں گونجتی ہوئی سننے والوں کے دلوں کے اندر گھستی چلی گئی۔حتی علی الصلوۃ کی ندا پر خدائے واحد کے پرستار پروانوں کی طرح بیت کی طرف دوڑے۔ان نمازیوں کے سروں پر ترکی ٹوپیاں۔عمامے ظر پوش اور انگریزی ٹوپیاں ( دین حق کی متحد کرنے والی قوت کا پتہ دے رہی تھیں۔کئی انگریزوں نے بھی فوارہ پر وضو کیا۔منہ، ناک، چہرہ، ہاتھ اور پیر پانی سے صاف کئے۔اور پھر بوٹ اُتار کر صرف جرابوں والے پیروں کے ساتھ وہ بیت کے اندر عبادت کے لئے داخل ہوئے۔مشرق نے لا انتہا دفعہ مغرب کی عظمت کے لئے اپنی ٹوپی اتاری ہو گی۔مگر آج وہ پہلا دن تھا جب مغرب نے مشرق کی اقتدا میں خدائے واحد کی تعظیم کے لئے نہ صرف اپنی ٹوپیاں بلکہ بُوٹ بھی اتار دئے امام نے بیت کی طہارت اور صفائی کے خیال سے پہلے ہی وہاں انگریزی میں نوٹس لگا رکھا تھا۔فاخلع نعلیک انک بالواد المقدس اور اس غرض کے لئے بیت کے دروازہ کے اندر دونوں طرف ٹوٹ رکھنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔سو (100) کے قریب نمازی ہوں گے۔جنہوں نے بیت میں پہلی نماز پڑھی۔اور وہ عصر کی نماز تھی۔جو مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم اے کی اقتدا میں پڑھی گئی۔اور جس کی پہلی اقامت کہنے کا فخر شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم کو حاصل ہوا۔شیخ عبدالقادر صاحب اور سر عباس علی بیگ بھی شریک نماز ہوئے۔سوا چار بج گئے۔نماز ختم ہوئی۔مسلمان باہر آئے۔اور اپنے غیر مسلم دوستوں کے ساتھ مل کر خیموں میں امام کی مہمان نوازی اور اس کی