تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 108 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 108

97 مزے سے زندگی بسر کرتے ہیں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا۔کہ مختلف اقوام کو آپس میں اتحاد اور یگانگت پیدا کرنے میں بہت سہولت ہو گی اور اس طرح بنی نوع انسان کے بھائی بھائی ہونے کا حقیقی اصل اپنی صحیح شکل میں ظاہر ہو کر عملی جامہ پہن لے گا۔جس سے ہماری یہ زندگی موجودہ حالت سے زیادہ خوشگوار اور بہتر صورت میں بدل جائے گی۔“ جب خان بہادر شیخ عبدالقادر صاحب اپنا ایڈریس پڑھ چکے۔تو مہاراجہ صاحب بردوان نے جو اس وقت حاضرین میں موجود تھے۔حسب ذیل تقریر فرمائی:- تقریر مہاراجہ صاحب بردوان : جس وقت مجھے دعوتی خط اس موقع پر شریک ہونے کے لئے ملا۔تو میں نے محسوس کیا کہ اس موقعہ پر شریک ہونا صرف میرا فرض نہیں ہے۔بلکہ یہ فرض ہے کہ میں خوشی کے ساتھ اس میں شرکت اختیار کروں۔ہندوستان کے ہر اس باشندہ پر جو کہ اپنا مادری وطن چھوڑ کر مغرب میں آتا ہے۔یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے۔کہ وہ مغربی عجائبات کو دیکھ کر اپنے مذہب اور مذہبی جوش کو کھو دیتا ہے۔مگر زمانہ یہ اشارہ کر رہا ہے کہ ان ہندوستانیوں کو کہ جنہوں نے مغربی ممالک کو عارضی طور پر اپنی جائے رہائش بنایا ہے۔اپنی مذہبی ضروریات کا احساس ہونا چاہئے۔اور جاننا چاہیے کہ ان کا مذہب ان کے لئے ضروری قرار دیتا ہے۔کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔اپنی ایک ایسی عبادت گاہ بنائیں جہاں وہ تمام جمع ہوسکیں۔اس لئے میرا آج یہاں آنا اور افتتاحی رسم مسجد لنڈن میں معاون ہونا میرے لئے موجب خوشی ہے۔اور میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امام مسجد اور دوسرے مسلمان