تواریخ مسجد فضل لندن — Page 75
68 امام (بیت) نے نہایت پر تپاک خیر مقدم کا تار ان کی خدمت میں بھیجا مگر حیرت اور استعجاب کی کوئی حد نہ رہی جب ان کی طرف سے کوئی فوری جواب اس معاملہ میں وصول نہ ہوا۔البتہ ان کا شکریہ امام کے پاس اس وقت پہنچا جب وہ لنڈن سے واپس جا چکے تھے اور اس طرح یہ خیال بھی یوں ہی چونکہ فیصل شاہ عراق کی طرف سے کوئی رضا مندی کا جواب موصول نہیں ہوا تھا اس لئے ابھی وہ لنڈن میں ہی تھے کہ امام ( بیت ) لنڈن کی توجہ شاہ حجاز کی طرف مبذول ہوئی اور اس طرح افتتاح بیت کے لئے تیسری تجویز کا آغاز ہوا جس کا انجام سب سے زیادہ دلچسپ ہے لنڈن سے شاہ حجاز کے ایک انگریز دوست نے مکہ ان کی خدمت میں ایک خط لکھا کہ اگر آپ اس موقعہ سے فائدہ اُٹھا ئیں تو آپ کے لئے ہر دلعزیزی حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے اس کے جواب میں شاہ حجاز نے فوراً اپنی رضا مندی کا تار اپنے انگریز دوست کے نام بھیج دیا۔جب امام کو یہ معاملہ معلوم ہوا تو انہوں نے با قاعده درخواست بذریعه تار بھیجی کہ چونکہ آپ مقامات مقدسہ کے ظاہری محافظ ہیں اس لئے بیت لنڈن کے افتتاح کے لئے اگر آپ اپنا صاحبزادہ یہاں بھیج دیں تو عین موقعہ کے مناسب و موزوں ہو گا۔سلطان نے بذریعہ تار کے اس دعوت کو قبول کیا اور ان الفاظ میں اطلاع دی:۔”ہم آپ کی دعوت قبول کرتے ہیں۔ہمارا بیٹا فیصل ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جدہ سے روانہ ہو گا۔“ 66 اس کے بعد باقاعدہ تیاریاں بیت کے شاندار افتتاح کی ہونی شروع ہو گئیں۔کو موزون جہاز بندرگاہ بلائی سمتھ (Blyssmouth) میں امیر فیصل اور ان کے رفقاء کو لایا۔جہاں امام نے ساحل پر شہزادہ کا نہایت پُر جوش خیر مقدم کیا اور ٹرین میں شاہزادہ کے ساتھ ہی لنڈن تک سفر کیا اور اس سفر میں