تواریخ مسجد فضل لندن — Page 150
132 لنڈن کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر امیر فیصل کی غیر موجودگی نے لوگوں کو استعجاب میں ڈالا اور کثرت سے رائے زنیاں ہوئیں۔اسلامی حلقوں میں یہ ایک بہت بڑا موقع تھا اور کچھ عرصہ پیشتر کہا گیا تھا کہ امیر فیصل اپنے والد کے نمائندہ کی حیثیت سے مسجد کا افتتاح کریں گے دو دن ہوئے یہ افواہ اُڑی کہ امیر افتتاح مسجد میں شامل نہ ہوں گے۔کوئی سرکاری اطلاع اس کی بابت مسجد کو نہیں ملی تھی۔اس لئے شہزادہ کے استقبال کے لئے تیاریاں ہو رہی تھیں۔کل اڑھائی بجے یعنی افتتاح مسجد سے آدھ گھنٹہ قبل جبکہ تمام لندن کے مسلمان حاضر تھے اور بہت سے معزز انگریز مہمان جمع ہو گئے تھے امام مسجد کو سلطان کے فارین سیکریٹری سے یہ تار ملا کہ افسوس! امیر فیصل شامل نہ ہو سکیں گے۔اس اچانک دستبرداری کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔امیر کی غیر حاضری میں مسجد کا افتتاح خان بہادر شیخ عبدالقادر سابق وزیر پنجاب حال نمائندہ لیگ آف نیشنز نے کی۔مسجد کے سیکریٹری مسٹر جی ایف ملک نے ویسٹ منسٹر ( West Minister) کے ایک نمائندہ کو کہا کہ شہزادہ کی غیر حاضری سے سب کو افسوس ہے۔میرے خیال میں شہزادہ کو اس کے والد نے روکا ہے اور اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ابنِ سعود کے بعض طاقتور دوست بہت متعصب ہیں اور احمد یہ فرقہ کی مذہبی بُردباری کے مخالف ہیں۔ان بااثر لوگوں نے سلطان کو اپنے بیٹے کے روکنے پر آمادہ کیا ہو گا۔امام نے سوا تین بجے قرآن شریف کی تلاوت کی۔اُس کے بعد شیخ عبدالقادر صاحب نے چاندی کی چابی سے مسجد کا دروازہ کھولا اور مسجد کے افتتاح کا اعلان کیا۔