تواریخ مسجد فضل لندن — Page 141
123 دُعاؤں پر مشتمل ہو گی۔مسجد چندہ کے روپیہ سے بنائی گئی ہے وہ بالکل ایشیائی مسجد کی طرح ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اس میں لمبی لمبی کھڑکیاں ہیں جو یہاں کے موسم کی وجہ سے بنائی گئی ہیں۔(9) ٹائمز (Times) مورخہ 3 اکتوبر 1926ء) "لندن کی پہلی مسجد کل تین بجے مکہ کے وائسرائے امیر فیصل اس مسجد کا افتتاح کریں گے جس کو احمد یہ جماعت نے ساؤتھ فیلڈ میں بنایا ہے۔یہ موقع میسحیت کے علاوہ دیگر مذاہب کی تاریخ میں ایک بڑا اہم واقعہ ہے کیونکہ یہ لنڈن میں سب سے پہلی مسجد ہے۔ووکنگ میں بھی ایک مسجد ہے جس کو بہت عرصہ ہوا کہ ڈاکٹر لیٹنر (Leitner) نے ہندوستان کے چندہ سے بنایا تھا تاکہ وہ ہندوستانی جو تعلیم کی غرض سے یہاں آئے ہیں۔اس مسجد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں لیکن تھوڑے عرصے سے اس مسجد کو عبادت گاہ کے طور پر استعمال کیا جانا شروع ہوا ہے۔یہ واٹر لو اسٹیشن سے 25 میل کے فاصلے پر ہے۔ٹائمنر نے اوائل 1911ء میں ایک مسجد کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی تھی اور چندہ جمع کرنے کے لئے ایک با اثر کمیٹی کا اعلان کیا گیا تھا مگر یہ تجویز بارآور نہ ہوئی۔صرف جمعہ کی نماز کے لیے ایک کمرہ کرایہ پر لیا گیا تھا۔اس کمی کو پورا کرنا جماعت احمدیہ کے حصہ میں تھا۔اس فرقہ کے امام حضرت خلیفہ اسیح پچھلے سال مع اپنے رفقاء کے مذہبی کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے آئے تھے اور اس بیت کی بنیاد رکھی تھی۔ہر ہولی نس حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (علیہ السلام) کے دوسرے جانشین ہیں جنہوں نے مسیح موعود