تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 105 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 105

94 اصل حقیقت کو آشکار کرے۔جب میں انگلستان میں ایک متعلم کی حیثیت سے چند سال رہا۔تو زندگی کا وہ شعبہ جو مجھے سب سے زیادہ اپیل کرتا تھا۔یہ تھا کہ ہم سب ہندوستانی ہیں۔اور نہ ہندو مسلمان یا عیسائی۔اور اسی طرح مسلمان جو یہاں پر رہتے ہیں۔سب مسلمان ہیں۔اور نہ شیعہ سنی یا احمدی۔گو میں احمدی نہیں ہوں۔مگر میں اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مسجد کا جو احمدیوں نے بنائی ہے۔افتتاح کرنے کے لئے یہاں کھڑا ہوا ہوں۔مجھے بھی بعض دفعہ احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے مگر میں نے ان کی اور دیگر مسلمانوں کی نمازیں بلحاظ ارکان اور کیا بلحاظ الفاظ کوئی فرق نہیں دیکھا۔ان کا بھی وہی قرآن ہے۔جو ان کے دیگر ہم مذہبوں کا ہے۔وہ نبی کریم کے ایسے ہی مطیع اور فرمانبردار ہیں۔جیسے کوئی شیعہ یاسنی ہے۔اور وہ اسلام کے سب احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں۔گو بعض احکام کی تشریح میں وہ پرانے فرقوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔مگر مغربی لوگوں کے پاس ان تفصیلات میں پڑنے کی بالفعل فرصت نہیں اور ان کو چاہئے کہ وہ ابتداء میں اس ملک میں ان تفصیلات میں نہ پڑیں۔اور اپنی زیادہ توجہ اسلام کے ارکان اور اس کے بنیادی اُصولوں کی طرف رکھیں۔جن سے اسلام کی تعلیم کی خوبیاں اور اس کی شوکت ان پر ظاہر ہو۔دُنیا کا کوئی مذہب نہیں۔جو مختلف فرقوں میں منقسم نہ ہو۔اور اسلام اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں ہے۔مسلمانوں کے اپنے حساب سے ان کے 270 فرقے ہیں۔مگر یہ اندازہ بہت پرانے وقت کا ہے۔حافظ (شیرازی) جو آج سے چھ صدیاں قبل زندہ تھا۔ہمیشہ اپنے شعروں میں اس تقسیم کی طرف اشارہ کیا کرتا تھا۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آج اسلام کے مختلف فرقوں کا شمار کیا جائے۔وہ تو اس تعداد سے کہیں زیادہ ہوں گے۔مگر یہ اختلاف اسلام کے کسی فدائی کی پست حوصلگی یا اس کے مخالفین کی حوصلہ