تواریخ مسجد فضل لندن — Page 74
67 حضور نے تحریر فرمایا کہ بہتر ہو گا اگر افتتاح ملک فیصل شاہ عراق کے برخوردار امیر زید سے کرایا جائے۔جو سابق شاہ حجاز کے صاحبزادے ہیں اور آکسفورڈ (Oxford) میں تعلیم پاتے ہیں۔یہ خیال اس وجہ سے پیدا ہوا کہ امیر زید اس شاہی خاندان کے ایک فرزند ہیں جو صدیوں سے گزشتہ سال تک کعبہ کا متولی رہا ہے۔اس تحریک کو بار آور کرنے کے لئے حضور نے یہ تجویز کی کہ شاہ فیصل کو لکھا جائے کہ وہ اپنے بھائی امیر زید کو بذریعہ تار کے ہدایت دیں کہ لنڈن میں (بیت) کا افتتاح کر دیں چنانچہ ایسا خط 28 اپریل 1926 ء کو امور خارجیہ نے شاہ عراق کی خدمت میں تحریر کیا۔23 مئی 1926ء کو شاہ موصوف کے پرائیوٹ سیکریٹری کا یہ جواب آیا کہ اس کام کے لئے آپ براہ راست امیر زید کی خدمت میں درخواست کریں تو مناسب ہے۔شاہ عراق کے اس خط کو ماہ جون میں ناظر امور خارجیہ نے امام کے پاس لنڈن بھیج دیا کہ براہ راست امیر زید سے فیصلہ کریں۔لیکن ساتھ ہی اس وقت اخبارات میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ فیصل شاہ عراق بھی لنڈن میں عنقریب تشریف لا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی قادیان سے ناظر صاحب دعوت وتبلیغ کا یہ تار پہنچ گیا کہ امام (بیت) اس موقع پر شاہ عراق کی خدمت میں تحریک کریں کہ شاہ موصوف افتتاح کی رسم کو بذات خود ادا کریں۔اس ہدایت پر مولوی درد صاحب نے تحریک شروع کر دی مگر شاہ فیصل نے لنڈن آنے میں بہت دیر کی اور وہ ان دنوں اپنی صحت کی خاطر فرانس میں مقیم تھے اور انگلستان کا کالونیل (Colonial Department) اور خود شاہ کا قائم مقام بھی نہیں بتا سکا کہ وہ کب داخل انگلستان ہوں گے۔(بیت) تیار تھی اور۔۔۔۔۔۔اس افتتاح کے لئے بے قرار تھے۔آخر خدا خدا کر کے وہ دن آیا جب شاہ فیصل ماہ اگست کے وسط میں لنڈن میں وارد ہوئے۔