تواریخ مسجد فضل لندن — Page 172
154 خود وہی رونق تو این بازار را اس خدا کا ہزار ہزار شکر ہے جو اپنے بندوں کے کام خود کرتا ہے مگر اجر اور ثواب ان کے اعمالنامہ میں لکھ دیتا ہے۔یہ محض اسی کا فضل تھا کہ ایک کمزور جماعت کو اس نے ایسے کام کی توفیق دی جس کی کوشش بادشاہوں اور قوموں نے کی مگر ان کو کامیابی نصیب نہ ہوئی۔یہ اس کی غریب نوازی اور ذرہ پروری ہے۔ورنہ ہم لوگ کہاں۔اور لندن میں خدا کا گھر کہاں؟ اور پھر ان لوگوں کے دلوں کا اس طرح مائل ہو جانا کہاں؟ یہ سب اس کی قدرت نمائی ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اللَّهُمَّ مَلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ طَ بِيَدِكَ الْخَيْرِ طَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ (ال عمران : 27) شئ قَدِيره پس اے جماعت احمدیہ کے قابل رشک ممبر و! اور اے الہی سلسلہ کی لڑی کے درخشندہ گوہرو! آؤ ہم اس خدا کی حمد و ثنا کریں اور اسی سے یہ دعا کریں کہ جس طرح یہ اینٹ بھر کی ( بیت ) محض اس کے احسان اور کرم سے ظہور میں آئی ہے اسی طرح ہم کو قلوب کی ( بیت ) بھی عطا فرما دے یہ جہان اس وقت سخت اندھیرے میں ہے اور دُنیا ہدایت سے بے بہرہ۔اور اکثر حصہ آدمی کی نسل کا روحانی آنکھوں سے اور کانوں سے معذور ہے نیکی اور بدی کی تمیز معدوم ہے خدا کی معرفت اور محبت کی جنس بازار عالم میں مفقود ہو گئی ہے ہر کس و ناکس جیفہ دنیا پر گرا پڑتا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنا پسند بھی نہیں کرتا۔اے ہمارے خداوند خدا تو ہی اس حالت کو دُور کر سکتا ہے۔اور صرف تو ہی ایسا انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔جس سے مادر زاد اندھے سو جا کھے ہو