تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 166 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 166

148 کرے گی تو نہ تمہارے ہاتھوں میں طاقت رہے گی نہ تمہارے پاؤں میں طاقت رہے گی۔تو یہ لطیفہ در حقیقت اس بات کے بیان کرنے کے لئے بطور مثال بنایا گیا ہے کہ جو کام رُعب دنیا میں کرتا ہے وہ طاقت اور قوت نہیں کر سکتی۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرا رُعب دلوں بٹھا دیا گیا ہے اب جہاں میں جاتا ہوں دشمن کا دل کانپ اُٹھتا ہے اور وہ اپنی طاقت کو بھول جاتا ہے اس کے خیالات منتشر ہو جاتے ہیں اور وہ میرے سامنے ایک بچہ کی حیثیت میں ہو جاتا ہے۔پس پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ غالب آنے والی قوم کو دیتا ہے۔وہ رُعب ہے۔اس قوم کو رُعب دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر چیز پر غالب ہوتے چلے جاتے ہیں اور کوئی چیز ان کے مقابلہ پر نہیں ٹھہرتی۔اب دیکھو ایک پولیس مین (Policeman) کے آنے ایک معمولی افسر کے آنے پر سب پر رُعب طاری ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اکیلا ہوتا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ اس کے پیچھے حکومت کا رُعب ہوتا ہے۔تو اب اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ہمارے لئے ایسے سامان تو پیدا کر دیے ہیں جن سے سلسلہ کا رُعب قائم ہو گیا ہے۔چنانچہ یورپ کے لوگوں نے بھی اس بات کو لکھا ہے کہ امیر فیصل کے روکنے کی یہ وجہ بھی ہے کہ دوسرے مسلمانوں کے دل اس بات کو دیکھ کر جل گئے ہیں کہ وہ باوجود تعداد اور مال میں ہماری نسبت کروڑوں درجہ زیادہ ہونے کے پھر اس کام میں کامیاب نہ ہو سکے جس میں ایک چھوٹی سی جماعت کامیاب ہو گئی ہے۔ادھر یہی خیال ان کے لئے محرک ہوا کہ چلو اس جگہ کو بھی چل کر دیکھیں کہ جس کے افتتاح کے لئے امیر فیصل مکہ سے چل کر آیا۔اور پھر مذہبی حساد کے روکنے کی وجہ سے اس تقریب سے رُک گیا۔اور درحقیقت اس میں اللہ تعالی کا ہاتھ تھا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیت کسی