تواریخ مسجد فضل لندن — Page 162
144 مذہباً اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا رہا ہے مگر افسوس کہ اس نے اپنی طاقت کو اپنے گھر میں ہی کمزور کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب مشرق بھی مغرب کی طرف دیکھنے لگا ہے۔اب مسلمانوں کی آذان کا نعرہ اس سر زمین میں سنایا جانے والا ہے اس کے بعد وہ ان پادریوں پر اعتراض کرتا ہے جو افتتاح میں شریک ہوئے تھے اور ان کو متنبہ کرتا ہے کہ اگر عیسائیت کا کوئی حقیقی دشمن ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔اسی طرح مقام کلکٹن (Kilkton) میں ایک بحث کے دوران میں مسٹر لارنس نے بڑا تعجب ظاہر کیا کہ انگلستان کی تمام مسیحی جماعتوں نے کیوں متحد ہو کر ایسا مقابلہ نہ کیا کہ اس سر زمین پر یہ مسجد تعمیر ہی نہ ہو سکتی، مگر اخبار کلکٹن گریفک (Kilkton Grapihc) میں ایک دوسرے شخص نے اس کا منہ توڑ جواب دیا کہ اگر یہی عمل عیسائی گرجوں اور مشنوں کے ساتھ دوسرے ممالک میں کیا جائے تو کیا ہمارے ملک کے باشندے اس کے برخلاف صدائے احتجاج بلند نہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔بیت کے افتتاح کا فوری اثر اور اس سے فائدہ اُٹھانے کی تجویز مجھے اس موضوع پر خود کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ بہتر ہے کہ اس کے متعلق خود حضرت خلیفہ اسیح کا وہ خطبہ درج کر دیا جائے جو آ۔نے قادیان میں 26 نومبر کے دن بیان فرمایا : - خطبہ جمعہ: میں نے ایک دفعہ پہلے بھی بیت لنڈن کے افتتاح کے متعلق ذکر کیا تھا اور آج اس کے ایک اور پہلو کے متعلق جماعت کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔