تواریخ مسجد فضل لندن — Page 158
140 (21) مانچسٹر گارڈین (Manchester Guardian) (مورخہ 4/اکتوبر 1926ء) جب مسجد کے سیاہ دروازے چاندی کی چابی سے کھولے گئے تو جلسہ کی کارروائی قرآن شریف کی تلاوت اور دُعا سے شروع ہوئی۔جلسہ میں مشرق و مغرب کا اجتماع تھا۔مسلمانوں کے ہر فرقہ کے لوگ صافے باندھے ہوئے ہندوستان کے دوسرے مذاہب کے پیرو مہاراجہ بردوان جیسے ذی اثر شخص، بیرونی سفارت خانوں کے ممبر اور بہت سے مشہور انگریز جن کو ایشیاء کا تجربہ تھا موجود تھے۔امام مسجد نے جماعت احمدیہ کے امام حضرت خلیفہ اسیح مرزا محمود احمد صاحب کا ایک پیغام سنایا جنہوں نے دو سال قبل اس مسجد کی بنیاد رکھی تھی۔پیغام میں یہ دلچسپ عبارت تھی۔”ہم عیسائیت کے برخلاف دشمنی نہیں رکھتے بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بڑا اور سچا نبی مانتے ہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ رسول کریم انہی کی پیشگوئی کے مطابق آئے۔خداوند تعالیٰ نے مقدس بانی اسلام کے ذریعہ سے دنیا کو آخری ہدایت دی اور یہ ہدایت دنیا کے اختتام تک رہے گی۔یہاں تک کہ اس زمانہ کے مصلح حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیش گوئی کے پورا کرنے کے لئے آئے۔ان کا کام اس آخری ہدایت کی سچائی کو قائم کرنا اور اس کے مخفی خزانوں کو ظاہر کرنا تھا لہذا ہمارا کام وحدت کے اس مرکز میں پیار اور دیانت داری کے ساتھ ایک زندہ اور قادر خدا کی پرستش کو پھیلانا اور خالق کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں قائم کرنا ہے۔ہم مختلف مذاہب کے پیروؤں کے دلوں سے بغض و عداوت کو دُور کرنے کی کوشش کریں گے اور تحقیقات کی سچی رُوح پیدا کرنے کے لئے اپنا پورا زور لگائیں گے۔ہم اخلاق کے سنوار نے اور گناہ و تعدی کے