تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 157 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 157

139 وہ اسلام کو دشمنی کی نظر سے نہ دیکھیں۔کیونکہ اسلام عیسائیت کو اس نظر سے نہیں دیکھتا۔ہم حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بڑا اور سچا نبی مانتے ہیں۔مجمع میں بہت سے اکابرین شامل تھے۔مثلاً لارڈ الیش فیلڈ ( Lord Ashfield)، سر ہیری برٹن (Sir Harry Berton) اور سر مائیکل اوڈوائر (Sir Michael Adwire)۔(20) یارک شائر پوسٹ (Yorkshire Post) (مورخہ 4/اکتوبر 1926ء) سلسلہ احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد صاحب جن کی مسجد کا افتتاح آج ہوا۔شمالی ہند میں اپنی زندگی کے ایام میں ایک عظیم الشان اثر رکھتے تھے۔ان کی ذاتی شہرت اور عزت بہت بڑی تھی۔انہیں اپنی راست بازی پر کامل ایمان تھا۔اُن کے بڑے مُرید ہیں۔پنجاب کے اعلیٰ ترین دماغ والوں میں سے بعض ان کے پیروؤں میں ہیں اور یہی وجہ کہ ان کے اصول آج دُور دُور تک پھیل گئے ہیں۔اس میں ہر گز شک نہیں کہ مرزا صاحب کو کامل یقین تھا کہ انہیں خدا کی طرف سے انسانی طاقتوں سے بالا طاقتیں حاصل ہوئی ہیں۔وہ بڑی عمر تک زندہ رہے۔ان کو فوت ہوئے 15 سال ہوئے ہیں۔وہ خلیق اور شریف آدمی تھے وہ اپنے پیروؤں اور عام لوگوں کو ہمیشہ وفاداری کی دانشمندانہ تعلیم سکھاتے تھے۔جہاں ان کے اپنے مذہب کا سوال اٹھتا تھا وہاں وہ مذہبی جوش سے بھر جاتے تھے۔آریہ سماج کا فرقہ جو انہی کے زمانہ میں نمودار ہوا اور لوگوں کو مرتد کرانے کا ایک مضبوط ذریعہ تھا۔ان کے غیظ و غضب کے نیچے آ گیا اور ایک آریہ مبلغ کے قتل کا واقعہ جس کی بابت انہوں نے تباہی کی پیشگوئی کی تھی اب تک پنجاب میں یاد ہے۔