تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 145 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 145

127 تھے۔یہ فرقہ مذہبی بُردباری کا ہمیشہ حامی رہا ہے اور مذہبی تشدد اور مذہبی لڑائیوں کو صفحہ دُنیا سے ہمیشہ کے لئے مٹانے میں کوشاں رہا ہے۔ایوننگ نیوز کے ایک نمائندہ کو مسجد کے ایک کارکن نے یہ کہا کہ یہ نئی مسجد کی ایک مخصوص مشنری تحریک ہے۔ہم عیسائیوں کو کہتے کہ آؤ اور خوبصورت چیزوں کی بابت علم حاصل کرو اور علوم کے آسمانی چشمے کو چکھو۔مسلمانوں میں کئی ایک فرقے ہیں، ہم بھی ایک فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ہمارا فرقہ سب سے زیادہ مضبوط اور راسخ الاعتقاد ہے۔دو سال قبل صرف دوسو (200) انگریز تو مسلم تھے اور آج تقریباً دو ہزار (2000) ہیں۔ہماری نئی مسجد صرف 175 آدمیوں کے لئے کافی ہے مگر ہمیں جلدی سینٹ پال (St۔Paul) یا ویسٹ منسٹر ایسے (West Minister Abbey) جتنی بڑی جگہ کی ضرورت پڑے گی، اس لئے ہندوستان اور دوسرے ممالک میں چندہ جمع کیا جا رہا ہے۔(12) آبزرور (Observer) (مورخہ 3 اکتوبر 1926ء) فرقہ وارانہ خصومت“ شہزادہ فیصل کے مسجد کے افتتاح میں حصہ نہ لینے کے فیصلے نے ایک عالمگیر دلچسپی پیدا کر دی۔امیر چند ہفتوں سے لنڈن میں ہے اور یہ فیصلہ شدہ بات تھی کہ وہ مسجد کا افتتاح کریں گے۔بندوبست مکمل ہو چکا تھا۔افتتاحی رسم ادا کرنے کا وقت آج تین بجے تھا۔امیر نے ایک چاندی کی چابی سے مسجد کا دروازہ کھولنا تھا اور ایک ایڈریس کا بھی انہوں نے جواب دینا تھا۔کل کے اخبارات میں افتتاح کی بابت اعلانات تھے مگر ساتھ ہی ایک اخبار نے یہ لکھا کہ امیر افتتاح میں شامل نہ ہوں گے۔اس کا راز کل