تواریخ مسجد فضل لندن — Page 137
122 -/3 3 بجے شام امیر فیصل لندن کی پہلی مسجد کا افتتاح فرما دیں گے۔افتتاحی رسم سے قبل بیت کے مینارہ سے آذان کی آواز سنائی دے گی۔اس آواز سے تمام مؤمنین نماز میں سر بسجو د ہو جاتے ہیں۔پٹنی ایک قسم کی مالکانہ دلچسپی اس پھانے (Wedge) میں لیتی تمام ہے جو اسلام نے جزائر برطانیہ کے مذہب میں گاڑ دیا۔پٹنی کے مقامی باشندے کھڑے ہو کر ان آدمیوں کا تماشا کرتے ہیں جو باغ میں کنکر کی روشیں بناتے ہیں اور اس عجیب و غریب باغ کو مکمل کرتے ہیں۔ایوننگ اسٹینڈرڈ کے ایک نمائندے نے مسٹر درد امام مسجد کو افتتاحی رسومات کا پروگرام خوبصورت عربی الفاظ میں بناتے ہوئے پایا۔کالے رنگ، شاندار داڑھی، رنگدار پگڑی اور خوبصورت ایشیائی لباس کے ساتھ مسٹر درد مُلاں معلوم نہیں ہوتے۔مسٹر درد نے کہا کہ ہم قدرتاً اس بات میں عزت محسوس کرتے ہیں کہ وائسرائے مکہ ہماری بیت کا افتتاح کریں گے۔ایشیاء اب ہمارے سلسلے میں دلچسپی محسوس کرتا ہے۔افتتاحی رسومات میں تمام طبقوں کے معزز انگریز شامل ہوں گے۔اس کام پر تین گھنٹے صرف ہوں گے۔ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز کے تقریباً تمہیں ممبروں نے آنے کا وعدہ کیا ہے چونکہ مجمع میں انگریز خاصی تعداد میں ہوں گے لہذا ہم کارروائی دو زبانوں میں کریں گے چونکہ امیر انگریزی نہیں جانتا اس لئے وہ پیغام جو وہ اپنے باپ کی طرف سے لایا ہے عربی میں پڑھا جائے گا۔جونہی پیغام ختم ہو گا ایک مترجم اس کو انگریزی میں دُہراتا جائے گا اور یہ کارروائی آخیر تک جاری رہے گی۔جلسہ کی کارروائی کا نہایت اہم حصہ یہ ہوگا کہ امام جماعت کا ایک پیغام سنایا جائے گا۔ہم بیتابی سے اس پیغام کا انتظار کر رہے ہیں جو ہم تک بذریعہ تار پہنچے گا۔کارروائی خاص کر تقریروں اور مسجد کے مبارک ہونے کی