تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 133 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 133

118 میں تھے، یا پلر کوارٹر کے ہندوستانی ملاح بھی آئے تھے۔ان سب نے فارن آفس اور دیگر افسروں کے ساتھ استقبال کیا۔اس موقع پر مسجد کے سیکریٹری مسٹر ملک ساؤتھ فیلڈ کے لڑکوں کا ایک دستہ لے کر آئے۔ان کے ہاتھوں میں انگریزی اور عربی جھنڈیاں تھیں۔ایک ہے۔نیلے رنگ کے جھنڈے پر سنہری عربی عبارت میں یہ لکھا ہوا تھا ”خدا ایک محمد اُس کا رسول ہے۔اے شہزادہ! ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، شہزادہ اپنے رفقاء کے ساتھ ہائیڈ پارک ہوٹل کو روانہ ہوا۔اگلے مہینہ کے شروع میں شہزادہ فیصل ایک مسجد کا افتتاح کریں گے جو مسلمانوں نے بنائی ہے۔(6) برسٹل ایوننگ نیوز (Bristol Evening News) مورخہ 24 ستمبر 1926ء) مودن لنڈن میں " ہم عنقریب لنڈن کی مسجد کے میناروں سے موذن کی آواز سنیں گے۔مسلمانوں کی عمارت ساؤتھ فیلڈ میں بنائی گئی ہے جس کا افتتاح شاہ حجاز کے لڑکے امیر فیصل کریں گے۔جو اس ہفتہ اس ملک میں آئے ہیں۔اسلامی پروپیگنڈا کافی طور پر یہاں جاری ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انگریز نومسلموں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔میں نے اس دعوے کے ثبوت میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیکھے۔نئی بیت میں صرف 175 نمازیوں کے لئے گنجائش ہے جو مسلمانوں کی تعداد کے لحاظ سے ناکافی ہے۔بلاشبہ یہاں انگریز نومسلم بھی ہیں جس میں سلطنت کا ایک لارڈ بھی ہے اور ان کی نظروں میں بیت کا بن جانا ایک ممتاز درجہ رکھتا ہے۔اس ملک میں مذہبوں کی کثرت اب بھی اس قدر ہے جتنی کہ پہلے تھی نئے فرقے بنتے رہتے ہیں اور پرانے فرقے وسیع ہوتے