تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 123 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 123

110 گیا۔اور معلوم ہو گیا کہ کون اس الزام کا مورد ہے:۔مشکل دارم ز دانشمند مجلس نا ز پرس تو به فرمایاں چرا خود تو به کمتر می کنند غرض ان لوگوں کے مشورہ سے عبداللہ دملوجی فارن منسٹر حجاز نے یہ فیصلہ کر لیا۔کہ شہزادہ شامل تقریب نہ ہو۔ممکن ہے۔کہ بعض اور وجوہات بھی اس کی تائید میں ہوں مگر ہندوستان کے کر اور انگلستان کے غیر متعصب اور فرقہ بندی سے آزاد کہلانے والے مسلمانوں کی کوشش کا یہ ایک کرشمہ تھا۔جو ظہور میں آیا۔فیصل اور عبداللہ بے شک ان کے اثر میں آ گئے۔مگر سب حالات معلوم ہونے کے بعد وہ دست تاسف ہی ملتے ہوں گے۔لیکن اب وقت نکل چکا۔خیال زلف بتاں میں نصیر پیٹا کر گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر مگر کیا تقریب افتتاح میں کوئی نقص یا کمی آئی۔حاشاء و کلا ہرگز نہیں۔افسوس! کہ جگہ کی کمی تھی ورنہ آدمی تو اتنے آئے تھے۔کہ اس سے چار گنا قطعہ باغ بھی ان کے لئے کافی نہ ہوتا۔اگر شہزادہ آتا تو لوگوں کی توجہ کا کچھ حصہ اس کی طرف ہوتا کیونکہ وہ ایک غیر ملک کا باشندہ اور ایک بادشاہ کا لڑکا تھا لیکن اب جو ہوا اس میں خالص (بیت) اور (بیت) کے بانی کی طرف لوگوں کا خیال رہا بلکہ شاہزادہ کے نہ آنے کی وجہ نامعلوم رہنے اور عین وقت پر اس کا شرکت سے انکار کر دینے کی وجہ سے یہ تقریب پبلک کے لئے بہت زیادہ دلچسپ اور مشہور ہو گئی اور یہی مقصد تھا۔انگلستان کی پبلک اور وہاں کے اخبارات نے فیصل کے اس فیصلے پر جو لے دے کی ہے وہ بذات خود دلچسپ ہے۔کوئی لکھتا ہے کہ اختلاف عقائد