تواریخ مسجد فضل لندن — Page 122
109 ضرورت کو اچھی طرح محسوس کرے گا۔“ امیر فیصل کیوں شریک جلسہ نہ ہوا: اس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔یہ غذر کہ سلطان ابن سعود کو بیت کے افتتاح کے لئے وعدہ کرتے وقت معلوم نہ تھا۔کہ یہ بیت احمدیوں کی ہے۔بالکل غلط ہے۔کیونکہ اول تو ان کو معلوم تھا۔پھر ان کا عذر یہ نہیں تھا۔کہ میرا اجازت نہ دینا ان لوگوں کے احمدی ہونے پر مبنی ہے۔بلکہ اس کی وجہ اس کے اعلان میں الاہرام کا وہ مضمون تھا جس میں غلطی سے یہ شائع کر دیا گیا تھا کہ یہ مسجد تمام مذاہب کی عبادت گاہ ہے۔جب اس کی تردید اچھی طرح بذریعہ تار کے سُلطان ابن سعود کے سامنے کر دی گئی۔تو انہوں نے اپنی طرف سے امیر فیصل کو اجازت دے دی۔مگر ہندوستان کے بعض مسلمانوں نے ہندوستان سے سُلطان کے نام تار دی اور شاید مکہ کے اور عمائد کو بھی دیئے ہوں گے۔غرض یہ کہ سلطان پھر متزلزل ہو گئے۔اور انہوں نے امیر فیصل کو لنڈن میں اطلاع دی۔کہ معاملہ غور کے قابل ہے۔تم اپنی ذمہ داری پر انگلستان کے دیگر مسلمانوں کے مشورہ سے یہ کام کر سکتے ہو۔اس پر انگلستان میں ایک عجیب عبرتناک معاملہ ہوتا ہے۔وہ یہ کہ انگلستان کے وہ مسلمان جو فرقہ بندی کو اسلام کی جڑ کے لئے تبر خیال کرتے تھے۔اور جو اپنے آپ کو دُنیا بھر میں غیر متعصب اور قادیانی احمدیوں کو فرقہ بندی کے جھگڑے پیدا کرنے والی جماعت کہا کرتے تھے۔وہ خود آگے بڑھ کر کوشش کرتے ہیں۔اور فارن منسٹر عبدالله الدملوجی کو مشورہ دیتے ہیں کہ جس طرح ہو سکے۔شہزادے کو اس افتتاح میں شامل نہ ہونے دے۔یہ وہی لوگ ہیں۔جو تعصب کا الزام آج تک ہم پر لگاتے رہے۔مگر آج ان کی حقیقت آشکارا ہو گئی۔اور نقاب اُٹھ