تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 109 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 109

98 بھائیوں کا جو یہاں جمع ہیں۔شکریہ ادا کرتا ہوں۔کہ انہوں نے مجھے اس شرکت کا موقع دیا۔اخبارات میں ہندو مسلمانوں کے اختلافات کے متعلق بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔جو یا تو اس وجہ سے ہے کہ وہ جان بوجھ کر شرارت کرنا چاہتے ہیں۔یا اس وجہ سے کہ برٹش دماغ کو پریشان کرنا ان کا مقصود ہے لیکن ان لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔کہ جب بھی اختلاف ہوتا ہے تو وہ صرف مذہب کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ کسی دنیاوی فائدہ اور شے کے لئے۔باوجود ان سب باتوں کے پھر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کا اعلیٰ طبقہ اپنے اپنے فرائض کو خوب پہچانتا ہے۔اور جاننا چاہئے کہ جو واقعات اس وقت ہندوستان میں ہو رہے ہیں۔وہ عارضی ہیں۔کیونکہ سچے ہندوؤں اور سچے مسلمانوں کے دل صاف ہیں۔(نعرہ ہائے مسرت و تالیاں ) جیسا کہ میرے دوست خان بہادر آف پنجاب نے فرمایا کہ باجود دوسرے اسلامی فرقہ کے ساتھ تعلق رکھنے کے میں نے یہاں آنا اور اس مسجد کی رسم افتتاح ادا کرنا جو کہ اس ملک میں احمد یہ سلسلہ کی انتہائی کامیابی کو ظاہر کر رہی ہے۔اپنا فرض خیال کیا ویسے ہی اسی جوش اور اسی روح کے ساتھ میں بھی بحیثیت ایک غیر مسلم ہونے کے کھڑا ہوا ہوں کہ میں احمدیوں کو اس بہت بڑے کام کے لنڈن میں سر انجام دینے پر مبارکباد عرض کروں۔اور اس وسعت قلب پر جو خان بہادر نے اس موقع پر مسجد کے افتتاح کرنے میں دکھائی۔لب تشکر وا کروں۔(نعرہ ہائے مسرت و تالیاں ) مہاراجہ صاحب کی تقریر کے بعد سر عباس علی بیگ نے مختصر تقریر کی۔اور ایسے مبارک موقع پر اپنے حاضر ہونے کی خوشی کا اظہار کیا۔ابھی ایک طرف سر عباس بیگ کی تقریر ہو رہی تھی۔کہ یکا یک بیت کے ایک مینارہ پر سے اللہ