تواریخ مسجد فضل لندن — Page 107
96 ایک دلچسپ خواب سے زیادہ نہیں۔مگر اسلام کی کامیابی کا دنیا کے اس روشن خیال اور بیدار حصہ میں (جہاں ہر بات کو نہایت غور و خوض اور چھان بین کے بعد مانا جاتا ہے ) انحصار اس بات پر نہیں ہے کہ ہم لوگوں کے پاس کس پائیہ کی اور کتنی مسجدیں ہیں۔بلکہ اس بات پر ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور ہمارا دستورالعمل کیا ہے۔اب یہ بات اس ملک کے طالب علموں، پیشہ وروں، تاجروں اور مبلغوں کے اختیار میں ہے۔جو اسلام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔کہ وہ اسلام کے ہونہار فرزند ہونے کا ثبوت دیں۔یا اس کو بدنام کرنے والے ہوں۔ان لوگوں کی اخلاقی اور روحانی حالت کا اندازہ ان کی روزمرہ کی زندگی کے حالات، ان کے ایفائے عہد، فرائض ادا ئیگی اور بنی نوع انسان سے دوستانہ سلوک سے لگایا جائے گا اور اسی سے ان کی مذہبی تعلیم کا اندازہ ہو سکے گا۔یہاں پر ایک مسجد بنا کر اس طرح مسلمانوں کی سوسائٹی Society کا ایک مرکزی نقطہ قائم کر کے ہمیں اپنے ایمانوں کی آزمائش کا موقعہ ملا ہے۔اب ہمارے نفس پر اسلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فرض ہے کہ ہم اس آزمائش میں پورے اُتریں۔اب ہم سب مل کر دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جو خالق ارض و سما ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔یعنی راہ ان لوگوں کی جن پر اس نے انعام کیا۔اور نہ مغضوب علیہ کی۔آمین پیشتر اس کے کہ میں تقریر کو ختم کر دوں۔میں چاہتا ہوں کہ ان تمام مسلمانوں کی طرف سے جو یہاں جمع ہوئے ہیں۔ان لوگوں کا شکریہ ادا کر دوں۔جو دیگر مذاہب سے یہاں تشریف لائے ہیں۔ان لوگوں نے بلاشبہ اپنی شمولیت سے ہماری حوصلہ افزائی کی ہے۔اور اس مبارک موقعہ پر تشریف لا کر ہمدردی اور اتحاد کی ان کڑیوں کو مضبوط کرنے میں ہماری امداد کی ہے جن کی طفیل کئی قومیں اور لاکھوں نفوس حکومت برطانیہ کے سایہ عاطفت کے نیچے