تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 104 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 104

93 حاصل ہوا۔تو میں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ممکن ہے کہ اس چھوٹی سی ابتداء ( جو اس وقت ہوئی) کا نتیجہ کسی وقت یہ ہو کہ ہم کو عبادت الہی کے لئے اپنی جگہ مل جائے۔مجھے طبعا اس بات سے خوشی ہوئی ہے کہ میرا وہ خواب حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (جو کہ مسلمانوں کے فرقہ احمد یہ قادیان پنجاب کے واجب الاحترام اور ذی وجاہت امام ہیں) کی سعی بلیغ اور ان کے بے نظیر قربانی کرنے والے مُریدوں کی کوشش سے عملی صورت میں نمودار ہوئی ہے۔مجھے خوب معلوم ہے کہ مسلمانوں کے اس نئے فرقہ کو دیکھ کر بعض پرانے اور بڑے فرقے خوش نہیں ہوتے۔اور یہ ہوسکتا ہے کہ شہزادہ فیصل کی عدم شمولیت کا باعث بھی ان کے اسی قسم کے مخالفین کی کوششوں کا نتیجہ ہو۔میں جرات سے اس خیال کا اظہار کرتا ہوں کہ ہمیں اس کام کو فرقہ بندی کے کسی تنگ پیمانہ سے نہیں ناپنا چاہئے۔بلکہ اس پر کمال فراخ حوصلگی اور وسعت قلبی سے نظر ڈالنی چاہیے۔میں جب مغربی لوگوں کی پاک فطرت کے سامنے اسلام کے احکام کو رکھنے اور اس کی خوبیوں کے اظہار کی اشد ترین ضرورت کا اندازہ لگاتا ہوں تو مجھے مختلف فرقوں کے اختلاف ایسے معلوم ہوتے ہیں۔جو آسانی سے نظر انداز کئے جا سکتے ہیں کسی مذہب کے متعلق اس قدر غلط فہمیاں نہیں پھیلائی گئیں۔اور اس کو اتنا بدنام نہیں کیا گیا۔جتنا اسلام کو کیا گیا ہے۔اور صرف چند سالوں سے ہی مغرب کے اہل علم طبقہ کو اس بات کا علم ہوا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ صرف دُنیا کے عظیم الشان نبیوں میں سے ایک نبی تھا۔بلکہ وہ اخلاق اور تمدن کے اعلیٰ اور مفید اصولوں کا معلم بھی تھا۔قطع نظر اس بات کے کہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ہر مسلمان جو اپنے دل میں دین کی خدمت کرنے کی اُمنگ رکھتا ہے۔اور اس کے پاس اس کے لئے ضروری سامان اور علم بھی ہے۔اس کا یہ فرض ہے کہ وہ مغربی لوگوں پر اسلام کی۔