تواریخ مسجد فضل لندن — Page 96
87 رُوحانی اور اخلاقی ترقیات کی طرف بلاتی ہے۔جماعت اتحاد کی طرف۔صفیں مساوات کی تعلیم کی طرف۔امام نظام کے فوائد کی طرف۔اور نماز کے آخر میں دائیں بائیں سلام پھیرنا۔دائیں بائیں سلامتی کی تعلیم پھیلانے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔غرض بیت ان اعلیٰ تعلیمات کا ایک ظاہری نشان ہے۔جو انبیاء دنیا میں لائے۔ورنہ جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔مسلمانوں کو ان کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی تعلیم دی ہے کہ وہ سب دنیا کو ہی مسجد سمجھیں۔یعنی ان اعلیٰ تعلیمات کو جو انبیاء کی طرف سے انہیں ملی ہیں۔ایک خاص مکان کی چار دیواری میں ہی محدود نہ رکھیں۔بلکہ اپنے تمام معاملات میں ان کو ظاہر کریں۔اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کو مدنظر رکھیں۔اور خدائے واحد کی محبت ان کے دلوں میں ہو۔اُس کے نام کی عظمت کے قائم کرنے کی فکر انہیں لگی رہے اخلاقی درستی، حریت ضمیر، اتحاد، غریبوں کی خبر گیری، مساوات کے جذبات کو وہ اپنے دل میں پیدا کریں۔اور لوگوں کو بھی اس طرف بلائیں۔انہی امور کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود حضرت مرزا غلام حمد علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا اور آپ کے اس مشن کو پورا کرنے کیلئے ہی احمدی جماعت کی طرف سے مغرب میں داعی الی اللہ ) بھیجے گئے ہیں۔اور اس مشن کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ہی بیت بنائی گئی ہے۔اس خدا کے گھر کی بنیاد اکتوبر 1924ء میں میں نے صرف ان مذکورہ بالا اعلی تعلیمات کو رائج کرنے کے لئے رکھی تھی۔جو نیبوں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فداہ نفسی و روحی دنیا میں لائے تھے۔ہمیں مسیحیت سے کوئی دشمنی نہیں۔ہم حضرت مسیح کو خدا تعالیٰ کا راست باز نبی اور ایک اولوالعزم نبی مانتے ہیں۔لیکن ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ آپ ہی کی