تواریخ مسجد فضل لندن — Page 95
86 مقام اور دوسری عمارتوں میں کوئی فرق نہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جعلت لی الارض مسجداً۔یعنی کسی خاص قام کی خصوصیت نہیں۔سب دنیا ہی میرے لئے مسجد ہے۔پس باوجود اس کے سب دنیا ہی مسجد ہے۔ایک خاص مقام کو منتخب کرنا درحقیقت انسان کے سوئے ہوئے جذبات کو جگانے کے لئے ہے۔یہ خاموش مگر باوقار گنبد انسانی زبان سے زیادہ فصاحت کے ساتھ ان بار یک رشتوں کو جو انسان خواہ کیسی ہی ادنی درجہ کی بے دینی کی حالت کو پہنچ گیا ہو۔اس کے اندر زندہ رہتے ہیں۔ہلا دیتا ہے۔اور اپنے پیدا کرنے والے کی محبت کا راگ پیدا کر دیتا ہے۔یہ عمارت زبان حال سے ان تمام پاکیزہ تعلیموں کو جو خدا تعالیٰ کے نبی دنیا میں لائے تھے بیان کرتی ہے یہ ان حقیقتوں کی جو نبیوں اور ان کے سچے پیرووں سے زندہ ہوتی چلی آئی ہیں ایک مادی یادگار ہے۔یہ خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلاتی ہے۔اُس خدا کی طرف جس نے ہمیں اور ہمارے باپ، دادوں کو پیدا کیا۔جو ہماری اور ہمارے باپ دادوں کی پرورش کر رہا ہے۔اور جس کی طرف ہم اور ہمارے باپ دادے لوٹ کر جائیں گے وہ اکیلا خدا ہے۔آسمان میں بھی اور زمین میں بھی، اوپر بلندیوں میں بھی اور نیچے پاتال میں بھی اس کی بادشاہت ہے۔سب محبت کرنے والوں سے زیادہ محبت کرنے والا۔سب محسنوں سے زیادہ محسن، جس کا رحم تو رحم ہے ہی۔لیکن جس کی سزا بھی محبت سے پُر اور شفقت سے لبریز ہوتی ہے۔ہماری روح اس کے فضلوں کو دیکھ کر اس کے آستانہ پر گرتی ہے۔اور کہتی ہے کے اے قدوس! تیری بڑائی ہو۔تیرا نام انسانوں کے دلوں میں بھی اسی طرح بلند ہو۔جس طرح تیری وسیع قدرت کے مناظر میں بلند ہے۔پھر بیت خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے وقف ہونے کے سبب سے