تواریخ مسجد فضل لندن — Page 90
81 کہ سڑکیں نہیں ہیں۔بلکہ آدمیوں کے چہروں کا ایک سمند ر ہے۔جو لہریں مار رہا ہے۔احاطہ کے اندر کا اندازہ ایک ہزار کے قریب کا ہے۔اور باہر خدا جانے کتنی مخلوق تھی۔لوگوں کو راستہ گزرنا مشکل تھا۔پاس کی دیواروں اور درختوں پر چڑھے بیٹھے۔پولیس تک کو دقت تھی۔ہر ایک دروازہ پر اور اندر باغ میں کانسٹیبل پھر رہے تھے۔ایک سامنے کا پھاٹک تو ہجوم کے باعث ٹوٹ ہی گیا دس آدمی ایک ہوٹل سے منگائے گئے تھے۔جو انتظام میں مدد کریں۔اور پھر اپنے آدمی تھے مگر سب بے بس ہو گئے تھے اور بیت سے خیمہ تک آنے کے لئے راستہ نہ ملتا تھا۔جس حصہ باغ میں خیمہ لگایا گیا تھا۔وہ 100 فٹ لمبا اور 50 فٹ چوڑا ہے۔ایک خیمہ اور ایک شامیانہ لگایا گیا تھا۔250 سے زیادہ کرسیاں تھیں۔مگر اس سے بہت زیادہ آدمی ارد گرد کھڑے تھے۔چائے باوجود وسیع انتظام کے سب لوگوں کو نہیں پلائی جاسکی۔اور ان کو بغیر چائے کے واپس جانا پڑا۔آنے والوں میں لارڈ، لیڈیاں، مہاراجے ( ,Lords, Ladies Earls) ، ممبران پارلیمنٹ (Members of Parliament)، اخباروں کے نمائندے، غیر سلطنتوں کے سفیر، معزز اراکین سلطنت، مسلم، غیر مسلم، ہر قسم، طبقہ - رنگ اور قومیت کے لوگ تھے۔ایک دروازہ باغ کا خاص افتتاح کننده کے لئے بنایا گیا تھا وہاں سے خان بہادر اندر داخل ہوئے۔ان کے داخل ہونے سے تھوڑی ہی دیر پہلے ایک نوٹس باہر لگا دیا گیا تھا۔جس کی عبارت یہ تھی۔اپنی خواہش کے برخلاف امیر فیصل کو اس تقریب میں شامل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔اُن کی غیر حاضری میں خان بہادر شیخ عبدالقادر صاحب بی اے بیرسٹر ایٹ لاء سابق وزیر گورنمنٹ پنجاب اور حال ممبر