تواریخ مسجد فضل لندن — Page 85
78 تقریب میں شمولیت اختیار کریں۔مگر افسوس۔۔۔۔کہ سب سمجھانا اور دلائل بیکار گئے۔امیر کی قسمت میں یہ نہ تھا کہ وہ نصرت ( دینِ حق ) کی اس عظیم الشان سعادت کو حاصل کرتا وہ لوگ حجاز کے بادشاہ کے خوف سے کچھ نہ کر سکے۔اور شاید یہ بھی ان کو خیال ہو کہ ہماری ہر دلعزیزی میں ایسی جماعت کے ساتھ ملنے سے فرق آ جائے گا۔جس کے افراد کو مذہبی متعصبوں نے شارع عام پر سنگسار کیا ہے۔بہر حال یا تو وہ کمزور دل تھے یا ان کو غلط فہمی ہوئی۔یا دی گئی۔مگر زمانہ جلدی ہی ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے اس سنہری موقع کو ہاتھ سے دینے میں کیسی غلطی کھائی ہے۔انہوں نے ایک کام کا وعدہ کیا۔اور پھر اس وعدہ کو خود توڑا۔اور اس افسوسناک طریق سے توڑا۔کہ دُنیا ان کی زیادتی کی گواہ اور آئندہ نسلیں ان کے لئے دست تاسف ملیں گی۔گھنٹے نے تین بجائے۔وقت افتتاح کا آ گیا۔اور پھر امام اور سب حاضرین اس بات سے بے خبر تھے کہ اس عظیم الشان تاریخی واقعہ کے ساتھ کس خوش قسمت کا نام وابستہ ہونے والا ہے۔کیا ایک شہزادہ افتتاح کرے گا۔یا ہندوستان کا ایک نمائندہ؟ کیا وہ ہندوستان جو قدیم زمانہ میں تمدن اور تہذیب کا منبع تھا۔اور اس آخری زمانہ میں نبوت کے نور کا مرکز اس موقع پر پیچھے دھکیلا جا سکتا تھا۔نہیں اور ہر گز نہیں۔آخری قرعہ ہندوستان کے اس نمائندہ کے نام پر ہی پڑا۔جسے خدا کا دست قدرت جنیوا سے لنڈن کی اسٹیج پر اس کام کے لئے لایا تھا۔ہزار ہا آدمی جمع تھے۔صحن، باغ اور سڑکوں پر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ہر مذہب اور ہر ملک کے لوگ اس مجمع میں شامل تھے۔جو صرف اس لئے آئے تھے کہ مشرق اور مغرب کے سب سے بڑے متحد ڈرامہ کو دیکھیں۔دروازہ پر سب کی ٹکٹکی لگی تھی کہ کون قفل کھولنے کے لئے نمودار ہوتا ہے۔امام کو صرف چند منٹ پہلے شہزادہ کے قطعی اور آخری انکار کا علم ہوا۔اور انہوں نے فوراً ایک