تواریخ مسجد فضل لندن — Page 81
74 اس کا ہم کو بہت افسوس ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا۔کہ شاہ حجاز کے الفاظ صاف واضح نہیں ہیں اور شہزادہ نے زیادہ واضح ہدایت کے لئے مکہ معظمہ تار دی ہے۔فارن منسٹر نے یہ یقین دلایا کہ ہماری پارٹی افتتاح میں شامل ہونا اپنے لئے باعث فخر خیال کرتی ہے۔اور آپ لوگ (دینِ حق) کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔اور ہم لوگ اس خدمت کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔مگر جیسا کہ اب حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ہم سوائے سلطان کے صاف اور واضح حکم کے افتتاح میں شامل ہونے سے معذور ہیں۔اصل بات یہ کہ سلطان نے امیر فصیل کو یہ تار دیا تھا کہ (بیت) کا افتتاح تم اپنی اور اپنے رفقاء کی ذمہ داری پر کر سکتے ہو۔اور اس معاملہ میں وہاں کے دیگر مسلمانوں سے بھی رائے لے لو۔مگر امیر فیصل نے اپنی ذمہ داری ہ کام کرنا مناسب نہ سمجھا۔اور سلطان کو پھر تار دیا۔کہ وہ ایک صاف حکم بھیجیں۔ڈاکٹر ڈبلو جی نے امام کو یقین دلایا۔کہ امیر فصیل اس تقریب میں نہایت خوشی سے شریک ہوں گے۔کہ آخری منٹ پر بھی ان کو سلطان کی طرف سے اجازت کا تار آ جائے۔اور اُمید ہے کہ سلطان کی طرف سے وقت سے پہلے جواب آ جائے گا۔آگے جواب خواہ مخالف ہو یا موافق اہل مسجد اور اہل حجاز اور اہل انگلستان، غرض سب اس تار کا انتظار کرتے رہے۔مگر کوئی واضح حکم نہ پہنچا۔یہ ایک راز تھا۔جو راز ہی رہا۔اور اخبارات نے اس راز کو مختلف پیرایوں میں لکھا۔اگر کسی نے اسے امیر فیصل کی مسٹری کے نام سے شائع کیا۔تو دوسرے نے (بیت) لنڈن کی مسٹری کے نام سے تیسرے نے خاموش امیر کے ہیڈنگ سے وغیرہ وغیرہ۔غرض افتتاح کے روز تک یہ حال تھا کہ ہائڈ پارک ہوٹل جہاں شہزادہ فیصل فروکش تھے۔وہاں جو کوئی اس امر کے متعلق پوچھنے جاتا۔تو باہر سے یہی جواب ملتا۔