تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 80 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 80

73 کوئی غلطی ہوئی۔نہیں۔ہم جو کچھ کر رہے تھے خدا کے لئے اور محض اس کے دین کے لئے کر رہے تھے اور یہ نہیں ہو سکتا۔کہ خدا دین کے لئے کچی کوششوں کو ضائع کر دے۔ہمیں اس پر بڑی بڑی اُمید میں ہیں۔اور وہی ہمارا رہنما ہے۔کیا سچ مچ التوا کر دیا جاتا؟ امام کے دل نے انکار کیا۔اس نے کہا کہ میں سب انتظام کو جاری رکھوں گا۔اور اسی تاریخ کو (بیت) کا افتتاح ہو گا۔جو مقرر ہو چکی ہے۔خواہ کتنی ہی روکیں۔کیوں نہ حائل ہوں۔لندن سے حضرت خلیفتہ اسیح کی خدمت میں تار بھیجا۔اور جس کا حضور نے فوراً جواب دیا۔میں پسند کرتا ہوں۔کہ تیاری جاری رکھی جائے۔اللہ تعالیٰ اس تقریب کو اور بھی زیادہ مبارک کرے گا 66 اللہ تعالیٰ خلیفہ پر اپنی برکات نازل فرمائے۔خدا اس کی زندگی میں برکت دے۔اور وہ ہماری رہنمائی کرتا رہے ایسے وجو د اور اس کی برکات سے انکار کرنے والا بے وقوف ہی ہو سکتا ہے یہ تار لندن کیا پہنچی۔کہ تھکے ہوئے پھر اُٹھ کھڑے ہوئے۔اور شہزادہ کی نظر عنایت کے منتظر دنیا بھر کے بادشاہوں سے مستغنی ہو گئے۔ہ باب یہیں نہیں بند ہوا۔پہلی اکتوبر کو ایک اور تار امام کے پاس پہنچا۔جس کا مضمون یہ تھا۔کہ سلطان نجد نے امیر فصیل کو اس لئے افتتاح سے روکا تھا کہ مارننگ پوسٹ کے حوالہ سے الا ہرام قاہرہ میں یہ خبر چھپی تھی کہ ( بیت) تمام مذاہب کے پیروؤں کے لئے عبادت گاہ ہو گی اور خالص اسلامی بیت نہ ہو گی۔اور اب سلطان نے امیر فصیل کو تار بھیج دی ہے کہ افتتاح کی رسم ادا کرے۔“ یہ خبر پہنچی ہی تھی کہ 2 اکتوبر کو ڈاکٹر ڈبلو جی فارن منسٹر حجاز خود امام کے پاس تشریف لے آئے۔اور فرمانے لگے کہ جو کچھ اب تک ہوا ہے۔