تواریخ مسجد فضل لندن — Page 79
72 مناسب انتظام کے بعد وقت اور تاریخ کی اطلاع دی جائے گی۔“ یہ دوست جب امام سے بالمواجہ ملے۔تو انہوں نے کوئی نئی بات بیان نہ کی۔صرف یہ معلوم ہوا کہ خود امیر فصیل تک اس روک کی اصلی وجہ سے بے خبر ہیں۔ان کے والد شاہ ابن سعود نے افتتاح کی ممانعت کا تار شہزادہ کو بھیجا ہے۔اور خود شہزادہ کو بھی اس ممانعت کا بہت رنج ہے۔جب وجوہات کی تفصیل معلوم ہو گی۔بتائی جائے گی۔یہ انکار ایسے وقت ظاہر کیا گیا۔کہ (بیت) کے کارکن حیران و ششدر رہ گئے۔نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والا معاملہ تھا۔حیران تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔مگر یہ پریشانی صرف ایک ساعت کے لئے تھی۔مومن کا ایمان اس کے خدا پر ہوتا ہے۔نہ کہ شہزادوں اور بادشاہوں پر۔وہ پیچھے پھر کر نہیں دیکھتا۔نہ وہ تاسف میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔وہ ہر ٹھوکر اور ہر روک کے لئے تیار ہوتا ہے۔اور پہلے سے زیادہ مستعدی سے کام کرتا ہے۔خواہ یہ روک بعض شریروں کی شرارت کا نتیجہ تھی۔یا صرف غلط فہمی کی بنا پر تھی۔یا کسی پولیٹیکل چال کی وجہ سے ظہور میں آئی تھی کچھ بھی تھی اب اس کے دریافت اور تحقیق کا وقت نہ تھا۔مگر اب کیا کیا جاتا۔ایک بادشاہ وعدہ کرتا ہے۔ایک شہزادہ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے اس کام کے ارادہ سے عرب سے آتا ہے۔مگر نتیجہ پھر وہی یعنی التوا۔وہی تاخیر۔دن رات کی دوڑ بھاگ اور کام اور انتظام سے ہمارے دوست تھک کر چور چور ہو رہے تھے۔ہزاروں آدمیوں اور پریس کو افتتاح کی دعوتی رقعے پہنچ چکے تھے۔ایسے لوگوں کے خط بھی آچکے تھے۔جو ڈنڈی، اڈنبرا اور ملک کے دیگر دور دراز حصص سے شرکت کے لئے تشریف لا رہے تھے۔اب اس حالت میں کیا کیا جاوے۔کیا ہم سے