تواریخ مسجد فضل لندن — Page 47
43 مقام تھے جو اپنی قلم کی کشش میں فی الحقیقت انگلستان کی حکومت کی باگ رکھتا ہے اور جن کی تعداد اشاعت لاکھوں ہے اور قریباً ایک درجن فوٹو گرافر اور سنیما (Cinema) والے موجود تھے۔ان کے علاوہ بعض لوگوں نے خود بھی فوٹو لئے۔ابتدائی کاروائی مکان کے داخلہ کے دروازہ سے لے کر خیمہ کی سیڑھیوں تک بانات کا فرش تھا اور خیمہ میں تمام مہمان جمع تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ ٹھیک 3 بجے خیمہ میں داخل ہوئے۔نیر صاحب نے اعلان کیا کہ حضرت اقدس خلیفہ اسیح آتے ہیں۔اس پر تمام حاضرین سروقد کھڑے ہو گئے اور حضرت نے محبت آمیز تبسم کے ساتھ سب مردوں سے مصافحہ کیا اور کچھ دیر تک مہمانوں سے باتیں کرتے رہے۔پروگرام کے مطابق ساڑھے تین بجے مکرم مولوی عبدالرحیم صاحب درد امام بیت لنڈن نے ایک مختصر تقریر میں مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔3:35 پر اعلان کیا گیا کہ احباب (بیت) کے جہاں سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔چنانچہ بدون کسی خاص امتیاز یا خصوصیت کے سارا مجمع اس جگہ پر پہنچا جہاں (بیت) کے محراب کی جگہ مقام پر ( بیت) کا سنگ بنیاد نصب کرنا تھا۔سنگ بنیاد : اس مقام پر پہنچ کر حضرت صاحب محراب میں کھڑے ہوئے آپ نے تلاوت قرآن کریم کے لئے حافظ صاحب کو بلایا۔حافظ صاحب نے وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشی اور سَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الأعْلیٰ کی تلاوت کی اور اس کے بعد حضرت نے