تواریخ مسجد فضل لندن — Page 43
39 روز حضرت اولوالعزم مرزا بشیر الدین محمود احمد فضل عمر حضرت خلیفتہ المسیح و المهدی نے دُنیا کے مادی مرکز لنڈن میں (بیت) کا سنگ بنیاد رکھا۔اس (بیت) کی تحریک 1920ء میں کی گئی تھی۔اور اس وقت حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی تحریک پر ایک لاکھ کے قریب روپیہ جمع کیا۔اور لنڈن کے ایک حصہ پٹنی میں ایک مکان معہ وسیع قطعہ زمین کے خرید لیا گیا۔اس زمین اور مکان کی خرید کا فخر مکرم چودہری فتح محمد خان صاحب سیال کے حصہ آیا اور یہ ایک مبارک فال تھا۔جو فتح محمد کے نام سے لیا جاتا ہے۔حضرت کو کبھی یہ خیال آتا تھا کہ میں اس ( بیت ) کا سنگ بنیاد رکھوں اور یہ پاک خواہش اُن خواہشوں میں سے ایک تھی جو دُنیا کی رُستگاری کے لئے آنے والے لوگوں کی ہوتی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح کو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایک رؤیا (بیت) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دکھائی تھی۔جو بارہا اخبارات اور کتب میں شائع ہوئی ہے۔بیت سے مُراد جماعت ہوتی ہے اور وہ رؤیا اپنے لفظوں کے موافق پوری بھی ہو چکی ہے۔لیکن اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا (بیت) کے ساتھ خاص تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام ( بیت) کی دیوار پر حضرت مسیح موعود کو دکھایا تھا۔اس قسم کے رویا اور کشوف کے متعدد مفہوم اور مطالب ہو سکتے ہیں لیکن یہ ضرور ثابت ہے کہ آپ کا کوئی خاص تعلق (بیت) سے ظاہری الفاظ میں بھی ہے۔یہ میرے ذوق کی بات ہے اور واقعات اس کو ثابت کر رہے ہیں۔غریب احمدی جماعت کا آپ کی تحریک پر لنڈن ( بیت) کے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع کر دینا اور غریب احمدی خواتین کا ( بیت) برتن کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے دینا چھوٹی باتیں نہیں۔غرض 1920ء میں جس کا ارادہ کیا گیا تھا 19 اکتوبر 1924ء کو اس (بیت) کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت اولوالعزم نے رکھ دی۔