تواریخ مسجد فضل لندن — Page 41
37 سکتا ہے۔مسجد ہی وہ تعلیم کی جگہ ہے جہاں مسلمانوں کی آئندہ نسلیں اور نومسلم لوگ پہلوں کی اقتداء میں تعلیم و تربیت پاتے ہیں۔مسجد ہی وہ مرکز ہے جہاں ایک مومن دوسرے مومنوں سے با قاعدہ مل کر اپنے ایمان کو تازہ اور مضبوط کرتا ہے۔مسجد کے بے انتہا فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسجد کا مادی وجود ہر محلہ، ہر شہر، ہر ملک اور ہر براعظم میں خود اسلام کا قائم مقام ہے۔حقیقت شناس آنکھ کے لئے ایک مقناطیسی کشش اپنے اندر رکھتا ہے۔اس مقام پر نامناسب نہ ہوگا کہ ان مسجدوں کا ذکر بھی کر دیا جائے جن میں سے دو انگلستان سے اور ایک فرانس سے تعلق رکھتی ہے۔مسجد ووکنگ :- اس مسجد کا حال یوں ہے کہ گزشتہ صدی کے آخر میں مسٹرلائٹنر (Mr۔Leitner) رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی جب پنشن لے کر اپنے وطن دو کنگ (Woking) جانے لگے تو انہوں نے اس ملک سے کچھ چندہ جمع کیا تاکہ واپسی پر انگلستان میں ایک مسجد، ایک مندر اور ایک گوردوارہ بنائیں چنانچہ رؤسا نے ان کو اس معاملہ میں کافی مالی امداد دی اور لائٹر صاحب نے ووکنگ میں ایک قطعہ مکان تعمیر کر کے اس کے پاس ایک چھوٹی سی مسجد بنا دی۔لیور پول (Liver Pool) میں بھی ایک مسجد تھی جو مسٹر عبداللہ کو کم نے قریباً 40-45 سال ہوئے بنائی تھی۔دراصل وہ صرف ان کے مکان کا ایک حصہ تھا جو مسجد کے نام سے موسوم تھا ان کے گمنام ہونے کے بعد ان کے ورثاء نے وہ سب جائداد فروخت کر ڈالی اور اب اس کا نشان باقی نہیں۔فرانس کے دارالسلطنت پیرس میں ایک مسجد اب تعمیر ہو رہی ہے اور مکمل نہیں ہوئی یہ مسجد فرانسیسی گورنمنٹ کے اشارہ سے بنی ہے شمالی افریقہ کی مسلمان فوج جس نے جنگ عظیم میں فرانس کے میدانوں میں داد شجاعت دی