تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 38 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 38

34 کر اس قدر رقم بھیجی گئی تھی۔کم از کم پاؤنڈ کی قیمت چھ روپیہ چودہ آنے تک ہو گئی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ایسے موقعے مل گئے تھے کہ ہم نے کم سے کم شرح پر زیادہ حصہ پاؤنڈوں کا خریدا۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریک چندہ کے ضمن میں باقی چندہ اور متعلقہ امور کا مجمل حساب بھی دے دیا جائے۔جب پونڈوں کا نرخ پھر بڑھ گیا اور قادیان میں اراضی ایک لاکھ روپیہ خریدنے کا انتظام ہو گیا جو سلسلہ اور مرکز سلسلہ کی ترقی کے لئے نہایت ہی اشد ضروری امر تھا تو اس چندہ میں سے بھی اٹھائیس ہزار پانچ سو (28,500) روپیہ اس خرید زمین پر لگا دیا گیا۔کل رقم جو چندہ بیت کے حساب میں وصول ہوئی وہ چورانوے ہزار پانچ سو تمھیں (94,530) روپیہ تھی۔1923ء میں (بیت) برلن کے لئے صرف مستورات سے بہتر ہزار (72,000) روپیہ چندہ وصول ہوا تھا اس میں مستورات نے بڑی قربانی کا نمونہ دکھایا تھا۔اس چندہ کی تحریک پچاس ہزار تھی مگر بعد ازاں جب چندہ زیادہ آنے لگا۔اور ضرورت بھی زیادہ محسوس ہوئی اور تحریک کو ستر ہزار تک بڑھا دیا۔اس طرح کل رقم بیت لنڈن کی 95 ہزار اور بیت برلن (BERLIN) کی 72 ہزار مل کر ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار (1,67,000) روپیہ جمع ہوا۔اس کے مقابلے میں حسب ذیل جائداد سلسلہ کے پاس ہے :- زمین مکان مشن لنڈن 4 ہزار پاؤنڈ عمارت بیت لنڈن 4 ہزار پاؤنڈ تجارت پر لگایا گیا 6 ہزار پاؤنڈ میزان کل 14 ہزار پاؤنڈ آج کل بحساب سوا تیرا (1314) روپیہ فی پاؤنڈ چودہ ہزار پاؤنڈ کی