تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 34 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 34

30 نمازیوں کی وجہ سے راستہ نہ ملا اس پر حضور بیٹھ گئے اور ناظر صاحب بیت المال کو بلا کر فرمایا کہ اس وقت چودہ پندرہ ہزار روپیہ قرض لے کر بھیج دیا جاوے جس کے پونڈوں میں تبدیل ہونے سے زیادہ رقم بن جائے گی جب حضور گھر میں تشریف لے گئے اور تحریک تحریر فرمائی تو بجائے چودہ پندرہ ہزار کے تھیں ہزار رقم لکھ دی۔اور بجائے قرضہ کے چندہ کا لفظ لکھ دیا۔حضور فرماتے تھے کہ گویا خود بخود ہی ایسا ہو گیا۔یہ تحریک لکھ کر اس روز عصر کے وقت ناظر بیت المال کو دے دی اور فرمایا کہ اس کے لئے مغرب کے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے۔بیت مبارک میں گنجائش کم اور اعلان کے لئے وقت تھوڑا! مگر پھر بھی حضور کی اس پہلی تحریک پر ہی چھ ہزار چندہ ہو گیا۔دوسرے دن 7 جنوری 1920ء صبح کو حضور نے مستورات میں تحریک فرمائی پھر اس دن عصر کے وقت مردوں کے درمیان بیت اقصیٰ میں اور بالآخر 9 جنوری 1920ء جمعہ کے دن خطبہ میں عام اعلان اس کا کر دیا گیا۔10، 11 جنوری تک صرف قادیان کا چندہ بارہ ہزار تک پہنچ گیا حضور فرماتے ہیں کہ:۔اس غریب جماعت سے اس قدر چندہ کی وصولی خاص تائید الہی کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اس چندہ کے ساتھ شامل ہے۔ان دنوں میں قادیان کے لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا اور اس کا وہی لوگ ٹھیک اندازہ کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا ہو۔مرد اور عورت اور بچے سب ایک خاص نشہ محبت میں چور نظر آتے تھے کئی عورتوں نے اپنے زیور اُتار دیئے۔اور بہتوں نے ایک