تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 33 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 33

29 حضرت ابراہیم کی ایک بڑی فضلیت اور خصوصیت یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر کعبہ کو بحکم الہی تعمیر کیا تھا۔پس مماثلت کی رو سے مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ضروری ہوا کہ وہ اور اس کا بیٹا دونوں مل کر ایک عظیم الشان بیت دنیا کی ہدایت کے لئے تعمیر کریں۔( بیت) کی تحریک 1920ء اگر چہ ولایت میں تبلیغی سلسلہ جاری ہوتے ہی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کو بیت کے وجود میں لانے کا خیال پیدا ہو گیا تھا کیونکہ وہاں بار بار مکانوں کے بدلنے سے تبلیغ کے اثر کو سخت نقصان پہنچتا تھا مگر یہ کام بظاہر مشکل نظر آتا تھا کہ اس کے لئے کوئی عملی تدبیر 1919 ء تک پیدا نہ ہو سکی۔روپیہ کی فراہمی، لنڈن میں موزوں زمین کا ملنا جو کافی ہو، شرفاء کے محلہ میں ہو، اور ایسی ہو کہ جس پر قانونی طور پر کوئی شرائط اور پابندیاں عائد نہ ہوں (اور یہ بات لنڈن کے مکانات اور قطعات اراضی کے خریدنے میں اور اس پر حسب منشاء عمارت بنانے میں بڑی سخت روک ہے) پھر اس کی تعمیر اور نگرانی۔پھر سب سے بڑھ کر لوگوں کی توجہ کو اس طرف کھینچنا، یہ وہ امور تھے جو اس کے راستہ میں حائل تھے مگر خدا نے ہر انتظام بہترین صورت میں پورا کر دیا۔سب سے پہلا زینہ روپیہ کی فراہمی تھی اور وہ اس طرح ہوئی کہ جنگ کے ختم ہونے کے بعد ایک زمانہ ایسا آیا کہ انگریزی پائرنڈ کا نرخ گرنا شروع ہوا جب پاؤنڈ کی قیمت بہت زیادہ گر گئی تو حضرت خلیفہ اسیح ثانی کے دل میں اس موقعہ سے فائدہ اُٹھانے کی تحریک بڑے زور سے پیدا ہوئی اور آپ نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا۔6 جنوری 1920ء منگل کا دن تھا جب خاص طور پر حضرت صاحب کو اس کا خیال ہوا۔حضور ظہر کی نماز پڑھا کر واپس تشریف لے جا ہی رہے تھے کہ آگے