تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 22 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 22

20 لنڈن کی مذہبی کانفرنس اور احمد یہ سفارت 1934ء میں ویمبلے کی نمائش کے دوران بعض معززین کو یہ خیال آیا کہ اس عالمگیر نمائش کے ساتھ ساتھ دنیا کے تمام مذاہب کی بھی نمائش کی جاوے۔اور عیسائی مذہب کو الگ رکھ کر جس کے حالات سے اہل مغرب خوب واقف ہیں کیونکہ وہ خود ان کا اپنا مذہب ہے باقی جتنے مذاہب اور ان کی نئی اصلاح شدہ شاخیں ہیں ان کے نمائندوں کو لنڈن بُلا کر اپنے اپنے مذاہب پر لیکچر کرائے جائیں۔چنانچہ اس کے لئے ایک کمیٹی انہوں نے بنائی اور پورا سامان لیکچروں کا وسیع پیمانہ پر کیا گیا۔مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کو بھی اس کمیٹی نے احمد یہ سلسلہ کے لیکچر کے متعلق مدعو کیا۔مولوی صاحب مذکور نے قادیان تار دیا اور کمیٹی کی طرف۔سے دعوت کے علاوہ درخواست کی کہ مضمون کے ساتھ خود حضرت خلیفہ اسیح یا کوئی سلسلہ کا معزز کارکن بھی اگر لنڈن تشریف لائے تو بہت مناسب ہو گا۔یہ دعوت جب یہاں پہنچی تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے فوراً مضمون لکھنا شروع کر دیا۔جون کا مہینہ خطرناک گرمی اور تپش غرض راتوں کو لیمپ کے آگے وہ عظیم الشان مضمون لکھا گیا جو ایک ضخیم کتاب احمدیت یا ( دینِ حق ) کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔دوران تصنیف میں مجلس شوریٰ بلائی گئی کہ کون شخص لنڈن بھیجا جائے۔مرزا بشیر احمد صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے تجویز پیش کی کہ یہ ایک خاص موقعہ ہے اگر خود حضرت خلیفہ اسی تشریف لے جاویں تو مناسب ہے غرض متعدد مشوروں اور بحثوں اور بیرونی جماعتوں کی رائے لینے کے بعد یہی مشورہ قرار پایا کہ اس موقعہ پر خود حضرت صاحب مع چند خدام کے انگلستان تشریف لے جاویں اور مذہبی کانفرنس میں شامل ہوں اور علاوہ اس کے انگلستان کے