تواریخ مسجد فضل لندن — Page 15
13 نقصان کئے گئے۔ان کے مُردے قبروں سے اُکھیڑ کر پھینکے گئے۔ان کا پانی بند کیا گیا۔اُن کی عورتوں اور بچوں کو ان سے جدا کیا گیا۔وہ سنگسار کئے گئے۔ان کو گلا گھونٹ کر مارا گیا۔ان کو بھری مجلسوں میں علی الاعلان قتل کر دیا گیا۔مگر وہ فولادی چٹان کی طرح عزم اور استقلال سے قائم رہے اور ذرہ بھی متزلزل نہ ہوئے۔انہوں نے اپنے خلیفہ کی جنبش لب پر بخارا اور روس اور ایران کے سفر ننگے پیر برفوں پر کئے۔انہوں نے جنگ عظیم کے دنوں میں ان جہازوں پر سفر کیا۔جو ہر وقت جرمن تارپیڈوں کی زد میں تھے۔اور دُنیا گواہ ہے کہ انہوں نے ملکانہ کے علاقہ میں ایک غریب کمزور قوم کو بچانے کے لئے تمام ممکن سے ممکن مالی اور جسمانی صعوبتیں اور اذیتیں برداشت کیں۔اور اس علاقہ کو کو نہ چھوڑا۔جب تک ارتداد کی روکو بند نہ کر دیا۔غرض انھوں نے اخلاص و ایمان ، ایثار و قربانی کا پورا پورا نمونہ دکھایا۔اب اے وے تمام نیک دل انسانو! جو کسی آخری مصلح اور نجات دہندہ کی انتظار میں چشم براہ بیٹھے ہو۔آؤ اور اس جماعت میں داخل ہو جاؤ۔کیونکہ وہ جس کی تم انتظار کرتے تھے۔آگیا اور جن مطالب اور مقاصد کے لئے اس کی انتظار کرتے تھے۔وہ اب اس اور صرف اس جماعت میں داخل ہونے سے تم کو مل سکتے ہیں۔کامیابی یقینی ہے۔اور انجام نظر آ رہا ہے۔صرف تمہارے قدم اُٹھانے کی دیر ہے۔تبلیغ ممالک بیرونی کی ابتدا حضرت مسیح موعود کی بعثت کی ایک بڑی غرض کسر صلیب بھی تھی۔یعنی عیسائی قوموں کو غلط راستہ سے ہٹا کر صحیح (دین) کی طرف بلانا۔اس کے لئے حضور نے جو تصانیف لکھی ہیں وہ بجائے خود ایک عظیم الشان کام ہے۔پھر حضرت مسیح ناصری کی وفات کا ثبوت قرآن و انجیل و کتب تاریخ سے دے کر