تواریخ مسجد فضل لندن — Page 167
149 انسان کی مرہونِ منت ہو۔بلکہ اس کے شاندار افتتاح اور اس کی عظمت و شہرت کے سامان اللہ تعالیٰ نے خود ہی پیدا کر دیے۔چنانچہ بعض اخباروں میں تین تین دن تک افتتاح کی خبروں کا تانتا لگا رہا۔یورپ کے اخباروں کی طاقت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ ایک ایک خبر کے شائع کرنے میں سبقت کرنے کے لئے ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔اور پھر ایک دفعہ شائع ہونے کے بعد دوسری دفعہ کبھی شائع نہیں کرتے۔اور اگر کسی وجہ سے کسی اور اخبار کے ذریعہ وہ خبر پہلے شائع ہو جائے۔تب بھی اسے شائع نہیں کرتے۔لیکن افتتاح بیت کے متعلق ولایت کے ایک ایک اخبار مثلاً ٹائمنر (Times) جیسے اخبار نے بھی تین دن متواتر خبریں درج کیں اور یہ نہیں خیال کیا کہ اب یہ خبر پرانی ہو گئی ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انگلستان کے ہر گھر میں بیت کے متعلق ایک شور پڑا ہوا ہے۔اور چرچا ہو رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر رُعب اور عزت جو سلسلہ کو بخشی ہے۔اس سے فائدہ اٹھانے کی کیا صورت ہے ان لوگوں کے دلوں میں اب جوش پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ( دینِ حق ) کی صحیح تعلیم کا مطالعہ کریں اور مسلمانوں سے ملیں۔ان کی مذہبی حالت ان کی دینی حالت کے متعلق دریافت کریں لیکن اگر ہمارے پاس اس کام کے لئے کافی لٹریچر نہ ہو جو اُن کے ان جذبات کو جو اُن میں پیدا ہو گئے ہیں۔ٹھنڈا کرے تو وہ ضرور پھر دوسرے لوگوں کی طرف متوجہ ہوں گے اور ان کے پاس جائیں گے۔اور اس طرح گویا ہماری تمام محنت اور لاکھوں روپیہ کا خرچ بالکل ضائع چلا جائے گا۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اب ہماری جماعت کے لئے بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ایک تو پہلے میرے ہی وہاں جانے سے ان کے اندر زبردست ہیجان