تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 160 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 160

142 ایک برقی پیغام سے مسجد کے مقاصد پر روشنی پڑتی ہے۔اس مسجد کے مقاصد کی غلط تعبیر کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ شاہِ نجد جو تقویت بیت کو دینا چاہتا تھا اس سے دستبردار ہو۔اس پیغام میں فرقہ کے امام نے خدا کا شکریہ ادا کیا جس نے مغرب کے سب سے بڑے مرکز میں انہیں مسجد بنانے کی توفیق عطا کی اور انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اس بڑی نیکی کا معاوضہ دیں جو اُن کی گہری نیند کے زمانے میں مغرب نے علوم کی مشعلوں کو ان کے سامنے روشن کرنے میں کی ہے وہ مسجد کو اس تعلیم کا ظاہری نشان بتاتے ہیں جس سے خدا کی محبت دلوں میں پیدا ہوتی ہے جس سے اخلاق درست ہو جاتے ہیں، جس سے ضمیر کی آزادی حاصل ہوتی ہے جن سے اتفاق و مساوات قائم ہو جاتی ہے، جس سے غریبوں اور محتاجوں کو سہارا مل جاتا ہے۔جب انہوں نے 1924ء میں مسجد کی بنیاد رکھی تو ان کے دل میں سوائے اس تعلیم کے اور کچھ نہ تھا۔تصویر کا دوسرا پہلو عام رائے تو آپ نے ملاحظہ فرما لی، اب خاص پادریوں کی حالت بھی دیکھ لیجئے۔ریورنڈ جے ٹی ڈیوس (Reeve Rend J۔T۔Davis) لندن کا مشہور یونی ٹیرین (Unitarian) پادری اپنے خط میں جماعت احمدیہ کو مسجد کے بن جانے پر دلی مبارک پیش کرتا ہے اور ان کی اس مراد کے بر آنے پر کہ انہیں ایسی جگہ مل گئی جہاں وہ خدائے واحد کی پرستش کر سکیں وہ بہت خوشی کا اظہار کرتا ہے وہ دُعا کرتا ہے کہ 3 اکتوبر کی رسم افتتاح بڑی برکات کا پیش خیمہ ہو اور اس تحریک کا آغاز ہو جس سے بنی نوع انسان اس نہایت رحیم وکریم خدا پر اپنا بھروسہ اور ایمان مضبوط کریں۔مجھے افسوس ہے کہ ضروری مشاغل کی وجہ سے میں افتتاح کے دن شامل نہ ہوسکوں گا۔مگر اس چرچ کے