تواریخ مسجد فضل لندن — Page 127
114 ھڑکیوں کے مشابہ ہیں مگر ان سے ذرا تنگ ہیں۔عمارت میں رنگ دار شیشے نہیں لگائے گئے۔دروازہ کے اوپر ایک کتبہ ہے جس پر کلمہ لکھا ہوا ہے۔اس کو ایک انگریز نقاش نے ایک فوٹو سے تیار کیا ہے۔دروازہ کے بالمقابل سیمنٹ کا ایک فوارہ ہے جو وضو کے لئے ہے۔دروازہ کے ہر دو جانب ایسی جگہ ہے جس میں مسلمانوں کے دستور کے مطابق نمازی نماز کے لئے داخل ہونے سے پیشتر جوتے اُتاریں گے۔مکان کے اندر ایک محراب ہے جس میں امام نماز کے وقت کھڑا ہوتا ہے۔ایونگ اسٹینڈرڈ کے ایک نمائندہ کو یہ بتایا گیا ہے کہ شہزادہ کی آمد کے لئے سب بندوبست ہو چکا ہے۔قالین بچھایا گیا ہے۔جو قالین مقدس کا قائم مقام ہے۔دوکنگ (Woking) میں ایک دوسری مسجد ہے جو کہ اس سے چھوٹی ہے۔اس کا اُس مسجد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اس نئی مسجد میں 175 نمازی سما سکتے ہیں۔اس مسجد کو جماعت احمدیہ نے بنایا ہے۔اس جماعت کی بنیاد حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے 1889ء میں ڈالی تھی۔گروہ مذہبی بُردباری کا بہت حامی ہے۔تشد داور مذہبی لڑائیوں کا مخالف ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ تمام مذاہب میں رسول پائے جاتے ہیں اور خداوند تعالیٰ کی وحدت کو مل کر پیش کرتے ہیں۔(2) ہل ڈیلی میل (Daily Mail) (مورخہ 23 ستمبر 1926ء) مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے اور یہ دو کبھی نہیں ملیں گے مندرجہ بالا مقولہ کے ہم اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ بغیر سوچے سمجھے ہم اس کو ٹھیک مان لیتے ہیں لیکن جب ہم پڑھتے ہیں کہ ایک احمدیہ (بیت) ساؤتھ فیلڈ لنڈن میں کھولی جائے گی تو ہم شک کرنے لگتے ہیں کہ کیا واقعی