تواریخ مسجد فضل لندن — Page 124
111 کی وجہ سے یہ شقاق پیش آیا ہے اور یہ کہ احمدی جماعت وسیع الحوصلہ اور غیر متعصب جماعت ہے۔کوئی تحریر کرتا ہے کہ شہزادہ نے سمجھا کہ یہ مسلمانوں کی مسجد نہیں ہے حالانکہ یہ خیال تک بیہودہ ہے۔بعض کہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں نے سلطان کو غلط فہمی میں ڈال دیا۔ٹائمنز لکھتا ہے کہ شاہ حجاز کا فیصلہ حیرت ناک ہے کیونکہ اس نے مدت پہلے اگست میں ہی بیت کے افتتاح کا وعدہ کر لیا تھا اور احمدی جماعت کا تعلق ( دین حق) کے ساتھ اچھی طرح تحقیق کر کے پھر وعدہ کیا تھا۔ڈیلی ٹیلی گراف (Daily Telegraph) لنڈن لکھتا ہے کہ شہزادہ کا يه فعل اُن مسلمانوں کی کوشش کا نتیجہ ہے جو احمدی جماعت کو کافر سمجھتے ہیں۔کسی ایک اخبار نے بھی شہزادہ کے اس فعل کو مستحسن نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کی نکتہ گیری ہی کی اور سب نے اسے غلط پالیسی کی طرف منسوب کیا اور یہی حق تھا۔زبانِ خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔فیصل مسٹری کی اصلی حقیقت نمونه خلق عظیم - نمونه اخلاق محمدی اب حقیقی مسٹری بھی سُن لیجئے۔وہ یہ کہ منشائے الہی یوں تھا کہ ایک شہزادہ کے نام کی وجہ سے پہلے تو لوگوں میں اعلان اور دلچسپی کی صورت پیدا کرے پھر اس کے انکار کی وجہ سے اس اعلان اور دلچسپی کو ہزاروں گنا زیادہ کر دے اور دُنیا پر یہ واضح کر دے۔کہ اس کے گھر کی شہرت کسی مشہور انسان کے احسان کی مرہونِ منت نہیں۔بلکہ برعکس اس کے یہ خود خدا کا احسان ہے کہ وہ کسی بندے کو ایسی خدمت کی توفیق دے۔اور پھر اس خدمت کی سعادت کی وجہ سے اپنے گھر کے نام کے ساتھ اس شخص کے نام کو بھی اطراف عالم میں