تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 120 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 120

107 مبارکباد دیتے ہیں۔کہ آپ نے مسجد کے نام سے ایک عبادت گاہ بنائی ہے۔جہاں ہم سب کے محبوب اور مشترک رب العالمین کا ذکر و عبادت ہو گی۔فقط سینما والوں نے فلم لے کر فوراً ہی لنڈن میں دکھانی شروع کر دی۔اور اس کا عنوان رکھا لنڈن کی عظیم الشان مسجد کی رسم افتتاح“ یہ فلم لاہور میں بھی ماہ نومبر کے آخر میں دکھائی جا چکی ہے۔اور اب تک ہر اس ملک میں جہاں سینما کا انتظام ہے۔لوگوں کو یہ سین دکھایا جا چکا ہوگا۔امام بیت فرماتے ہیں۔پریس نے جو دلچپسی دکھائی ہے۔وہ اخبارات سے واضح ہے۔صبح شام اور رات کے بارہ بجے تک نمائندے آتے رہے ہیں۔فوٹو گرافر تو اتنے آئے ہیں کہ شاید ہی دنیا کا کوئی حصہ ہوگا۔جہاں بہیت کا فوٹو نہ پہنچا ہو گا۔کئی مصور کھڑے تصویریں بناتے رہے ہیں کوئی سڑک پر کھڑا ہے، کوئی باغ کے اندر کوئی کسی جگہ، ایک مصور نے اندرونہ بیت کی تصویر اتاری۔یہ تصویر لنڈن کی ایک نمائش میں بھیجی گئی۔امریکہ افریقہ، آسٹریلیا اور ہالینڈ کے پریس کے نمائندے عجیب عجیب سوالات کرتے رہے۔غرض دنیا کے کناروں تک مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچ گیا۔فالحمد للہ علی ذالک جماعت کی شہرت اس قدر بڑھ گئی ہے۔کہ یہاں ایک عالی شان ہسپتال امراض مخصوصہ منطقہ حارہ کا ہے۔ان لوگوں نے ہمارے دوستوں کو چائے پر بلایا۔اور پھر تمام ہسپتال کی سیر کرائی۔اور دوسرے دن ان کا ایک آدمی ایک کتاب لے کر آیا۔کہ اس پر بطور یادگار کے اپنے دستخط کر دیں کئی شوقین لوگ چپکے چپکے آ کر بیت کا فوٹو کھینچ کر لے جاتے ہیں اور کئی پہلے اجازت لیتے ہیں پھر فوٹو کھینچتے ہیں۔اور پھر بہت خوش ہوتے ہیں۔امیر فیصل مسٹری: