تواریخ مسجد فضل لندن — Page 119
106 مسر فلمی کو کہتے تھے۔کہ ابن سعود کا کیا نقصان تھا۔اگر وہ فیصل سے بیت کا افتتاح کرا دیتا۔اس کو تو اتنا بھی اندیشہ نہیں۔جتنا کہ مجھے ہو گا۔مگر میں جانتا ہوں کہ یہ حق بات ہے۔اگر مجھے نقصان پہنچے بھی تو میں پرواہ نہیں کروں گا۔معززین کے طبقہ سے کوئی شخص بغیر امام سے ملے اور مصافحہ کئے اور مبارکباد دیئے نہیں گیا۔مہمانوں کے چہروں پر عجیب انبساط اور خوشی تھی۔اس کے علاوہ افتتاح کے وقت سے آج تک یہ حال ہے کہ جس وقت دیکھو چار پانچ آدمی مکان کی دیوار کے ساتھ چھٹے کھڑے بیت کو دیکھ رہے ہیں۔اور آذان سننے سے تو سیری ہوتی ہی نہیں افتتاح کو کئی روز ہو چکے۔مگر مبارکبادی کے خطوط کا سلسلہ ہی بند نہیں ہوتا۔نمونہ کے طور پر مہاراجہ الور کا خط درج ذیل ہے۔جو ان دنوں اسکاٹ لینڈ کی طرف تشریف رکھتے تھے۔مہاراجہ الور کا پیغام مبارک باد آپ کے پرائیوٹ سیکریٹری صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔”جناب من! مجھے ہز ہائی نس نے ہدایت فرمائی ہے کہ میں آپ کے دعوتی خط مورخہ 30 ستمبر کی رسید دوں۔ہز ہائی نس آپ کی اس دعوت شمولیت کے شکر گزار ہیں۔اور وہ ان جذبات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جو آپ نے ہز ہائی نس کے متعلق ظاہر کئے ہیں۔کہ وہ اپنی رعایا کے مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں محبت کا برتاؤ رکھتے ہیں۔ہز ہائی نس جیسا کہ آپ کو معلوم ہے۔فی الحال اسکاٹ لینڈ میں بہت دُور ہیں۔اس اثناء میں آپ کی چٹھی اس قدر تاخیر سے ملی۔کہ افتتاح کی تاریخ 3 را کتوبر 1926ء گزر ا ہے۔اس لئے آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔کہ اس تقریب پر ہز ہائی نس کی شمولیت ناممکن ہو گئی تھی۔تاہم ہزہائی نس آپ کو اور آپ کی جماعت کو دلی