تواریخ مسجد فضل لندن — Page 116
103 دروازہ بند نہ کر دیا جاتا تو لوگ جمع ہی رہتے۔آج کا دن عظیم الشان کامیابی کا دن تھا۔یہ تقریب کیا تھی۔ایک رعد آسمان تھی۔جس نے تمام انگلستان، مصر، عرب، ہندوستان بلکہ تمام دنیا کو کئی دن تک جگائے رکھا۔دُنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اسمعو صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ وقت سے پہلے کون کہہ سکتا تھا۔کہ یہ تقریب بھی خدا کی اس وحی کے پورا ہونے کا باعث ہو گی۔مگر چند ہی دن میں بیت لنڈن اور جماعت احمدیہ کا ذکر دنیا کے ہر کونے اور کنارے تک پہنچ گیا۔اور مسیح کی جماعت ( دینِ حق ) کے ناخلف فرزندوں سے ممتاز ہو کر دنیا کے سامنے آگئی۔کیونکہ خدا نے یہ بھی فرمایا تھا۔ما كان الله ليذر الـمـومـنـيـن عـلـى مـا انـتـم عـلـيـه حتـى يميز الخبيث من الطيب اے خدا جس طرح تو نے اس بیت کے افتتاح کے موقع پر عظیم الشان کامیابی اور نصرت عطا فرمائی ہے۔اسی طرح تو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ وہ حقیقی کامیابی اور نصرت بھی عطا فرما جس کے لئے یہ بیت تعمیر کی گئی ہے۔تو اس جگہ کو ہدایت نور کا سرچشمہ اور مغرب میں اپنے جلال اور توحید کی اشاعت کا مرکز بنا۔اور اس ملک کے رہنے والوں کو اس کی برکت سے رُوحانی طور پر بھی ویسا ہی خوبصورت سفید اور نورانی کر دے۔جیسا کہ وہ جسمانی طور پر ہیں۔آمین