تواریخ مسجد فضل لندن — Page 115
102 سیکریٹری ہائی کمشنر آف انڈیا۔لارڈ ٹری اون اور سر ہیری فاسٹر اور لارڈے۔لارڈ ایسکوئتھ اور کئی دیگر نہایت معزز اصحاب نے مبارکبادی کے خطوط بھیجے۔اور اپنے نہ حاضر ہو سکنے پر معذرت کی۔(6) اخبارات کے نمائندوں، فوٹوگرافروں اور سینماء والوں کا تو کہنا ہی کیا تھا۔غالباً لنڈن کا کوئی اخبار نہ تھا جس کا نمائندہ اس تقریب کو دیکھنے اور اس پر رپورٹ کرنے کے لئے موجود نہ ہو۔(8) (7) ان کے علاوہ دُنیا بھر کے مختلف ممالک کے شرفاء وہاں موجود تھے۔اور بعض تو ایسے تھے۔جو انگلستان کے دُور دُور حصوں سے صرف اس تقریب میں شرکت کے لئے حاضر ہوئے تھے۔ڈنڈی، اڈنبرا، کیمبرج، آکسفورڈ، ڈربی، بلیک پول، مانچسٹر وغیرہ سے مسلمانوں نے اس جلسہ میں شرکت کی۔چرچ آف انگلینڈ اور دوسرے متعدد کلیساؤں کے پادری بھی اس تقریب میں دلچسپی کے ساتھ شامل ہوئے۔ریفریشمنٹ وغیرہ کے بعد لوگوں نے امام اور اس کے رفیقوں کو اس کامیاب تقریب پر مبارکبادیں دیں۔اور نہایت گرمجوشی سے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس طرح یہ جلسہ بخیر و خوبی ختم ہوا۔چار (4) انگریزوں نے اس تقریب سعید پر اپنے (دینِ حق ) کا اعلان کیا۔جن کے نام مسٹر کنگ (Mr۔King) ، مسٹر نقل (Mr۔Nittil)، مسٹر کا ڈپ (Mr۔Coddip) اور مسٹر ابی جارڈن (Mrs۔Albey Jordan) ہیں۔اور یہ اس مبارک تقریب کا پہلا ظاہری شمر ہے۔اللہم زدفرد افتتاح بیت سے لے کر سال 1926ء کے آخر تک انگریز مرد و عورت احمدی ہو چکے ہیں۔جو معزز اور تعلیم یافتہ طبقہ کے ہیں۔جلسہ تو ختم ہو گیا۔اور اکثر مہمان بھی چلے گئے۔مگر پھر بھی لوگوں کی دلچسپی اور رشوق کم نہ ہوتا تھا۔اور برابر جمگھٹا لگا رہا۔اور اگر رات کے نو (9) بجے کے بعد بیت کا