تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 9 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 9

7 اوراسی ( دین حق کو دوبارہ زندہ کرنے اور دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں اسے غالب کر کے دکھانے اور دنیا کو رُوحانی موت سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح و مہدی بنا کر مبعوث فرمایا۔حضرت مسیح موعود ایک معزز مغل زمیندار خاندان سے تھے اور 1836 (فروری 1835۔ناقل ) کے قریب ایک گاؤں قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ کی جوانی کے زمانہ کے بے عیب ہونے پر آپ کے ہم وطن دشمن بھی تمام عمر شاہد رہے ہیں۔آپ نے بچپن سے ہی اپنی عمر زہد و تعتبد میں گزاری۔جب آپ کی عمر رُوحانی پختگی کو پہنچی تو آپ کو خدا تعالیٰ کی ہم کلامی اور الہام کا شرف حاصل ہوا۔1891 میں آپ نے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا۔اور دعوے کے کرتے ہی تمام ہندوستان اور پھر اس کے بعد دُنیائے اسلام میں وہ مخالفت اور ہلچل مچی کہ خدا کی پناہ۔قدیم سُنّت اللہ کے مطابق اپنے عزیز ، اہلِ شہر، اہل وطن ،علماء، صوفیاء،عوام ، ہر فرقہ اور ہر طبقہ کے لوگ سخت دشمن ہو گئے اور جان مال عزت اور جماعت۔غرض ہر چیز کو تباہ کرنے کی کوشش میں ناخون تک کا زور لگایا۔مگر تمام دُنیا کے مقابلہ میں خدائی سلسلہ کا بال بینکا نہ ہوا۔اور خدا کا کہنا سچ ہوا کہ۔دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اُسے قبول کرے گا۔اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ پس خدا کے طالبوں نے اُسے قبول کیا۔پہلے ایک نے پھر دو ( 2 ) نے پھر سو (100) نے۔پھر ہزار نے۔یہاں تک اب لاکھوں صدق دل سے اس کے